برازیل نے امریکی تنقید کو کاروباری مفادات کا نتیجہ قرار دے دیا

برازیل کے وزیرِ خزانہ ڈاریو دوریگان نے کہا ہے کہ برازیل کے فوری ادائیگی کے نظام "پکس” پر امریکی تنقید دراصل بڑے امریکی ٹیکنالوجی اداروں کے معاشی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔

ساؤ پالو۔10جون (اے پی پی):برازیل کے وزیرِ خزانہ ڈاریو دوریگان نے کہا ہے کہ برازیل کے فوری ادائیگی کے نظام "پکس” پر امریکی تنقید دراصل بڑے امریکی ٹیکنالوجی اداروں کے معاشی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔شنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ برازیل کے مرکزی بینک کے زیرِ انتظام مفت ادائیگی کے نظام "پکس” کی جانچ پڑتال صرف معاشی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی نوعیت کے خدشات سے بھی متعلق ہے، جو برازیل کی مالی خودمختاری سے جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بعض برازیلی مصنوعات پر امریکہ کی جانب سے عائد 25 فیصد ٹیرف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے "پکس” پر یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ اس نظام سے امریکی کمپنیوں کے جاری کردہ ادائیگی کارڈز متاثر ہو رہے ہیں۔وزیر خزانہ کے مطابق "پکس” برازیل کی مالی خودمختاری کی ایک اہم علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی تجارتی تحقیقات کے نتیجے میں کوئی پابندیاں عائد کی گئیں تو ان کا زیادہ اثر مالیاتی اداروں پر پڑے گا، نہ کہ خود ادائیگی کے نظام پر۔ڈاریو دوریگان نے بتایا کہ برازیلی حکام تحقیقات کے تحت زیرِ غور معاملات، بشمول ماحولیاتی امور اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مارکیٹ پر "پکس” کے اثرات کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیز رفتار ترقی نے ادائیگی کے نظاموں اور ٹیکنالوجی خدمات سے آمدنی حاصل کرنے کے طریقوں پر عالمی سطح پر مقابلے کو بڑھا دیا ہے۔ان کے مطابق برازیل نے اپنے مرکزی بینک کے ذریعے "پکس” کی صورت میں ایک عوامی، مفت اور صارف دوست متبادل نظام متعارف کرایا ہے، جو شہریوں اور کاروباری اداروں کو فوری ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔واضح رہے کہ برازیل کے مرکزی بینک نے "پکس” کا آغاز 2020 میں کیا تھا، اور یہ مختصر عرصے میں ملک کا سب سے مقبول ڈیجیٹل ادائیگی نظام بن چکا ہے، جسے لاکھوں افراد اور کاروباری ادارے بغیر کسی اضافی لاگت کے استعمال کر رہے ہیں۔