برطانوی نشریاتی ادارے نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے نریندر مودی کے اقدام کو بھارتی وفاق کے لئے خطرہ قرار دے دیا

لندن ۔ 19 اگست (اے پی پی) برطانوی نشریاتی ادارے نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو بھارتی وفاق کے لئے خطرہ قرار دے دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی خود کو ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دیتے ہوئے بھارتی وفاق کو مضبوط کرنے کے چیمپئن کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں لیکن …

لندن ۔ 19 اگست (اے پی پی) برطانوی نشریاتی ادارے نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو بھارتی وفاق کے لئے خطرہ قرار دے دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی خود کو ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دیتے ہوئے بھارتی وفاق کو مضبوط کرنے کے چیمپئن کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر کے مکینوں اور سیاسی رہنمائوں کی مشاورت کے بغیر ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام نے جو بھارت کے وفاقی ریکارڈ پر ایک اور دھبہ ہے، دیگر ریاستوں کو بھی ان خدشات میں مبتلا کر دیا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اسی طرح کا سلوک ان کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے اور یہ کہ یہ اقدام بھارت کے وفاقی ڈھانچے کو بے حد کمزور کردے گا، جس طرح مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس ریاست کی خود مختاری کو جو پہلے ہی متعدد صدارتی حکمناموں کے باعث براہ نام رہ گئی تھی مزید کم کردیا گیا ہے اسی طرح دیگر ریاستوں کی خود مختاری کو بھی کم کیا جاسکتا ہے جو نریندر مودی کے دعوووں کے بالکل الٹ ہوگا۔رپورٹ کے مطابق مودی کے اقدام نے پہلے سے نازک بھارت کے وفاقی توازن کو مزید اپ سیٹ کردیا ہے۔امریکا اور کینیڈا جیسے اقتصادی لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک میں اگرچہ وفاق اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم بڑی نازک ہے تاہم ملک گیر ثقافتی ہم آہنگی کے باعث یہ تقسیم باآسانی قائم رہتی ہے لیکن بھارت جیسے ملک میں جہاں ایک بڑا ثقافتی تنوع موجود ہے اور مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے ماننے والے لوگوں کی مخصوص خطوں میں اکثریتی آبادیاں موجود ہیں یہ توازن بے حد نازک ہے۔بھارت میں سیاسی بنیادوں پر تعینات گورنرز کی رپورٹس پر 1951ء اور 1997ء کے درمیان مختلف ریاستوں کو براہ راست مرکزی حکومت کے ماتحت لانے کے 88 واقعات پیش آچکے ہیں۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے سابق وزیٹنگ سکالر نونیتا چڈھا بہیرا کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی ریاستوں کے مقابلہ میں وفاق کے اختیارات میں اضافے اور جمہوری اصولوں کی معطلی کی طرف ایک قدم ہے۔ بھارت بھر کے لوگوں میں یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ مرکزی حکومت کسی بھی وقت کسی بھی ریاستی اسمبلی کو اس کے عوام سے مشاورت کے بغیر تحلیل کرکے اسے براہ راست مرکز کے کنٹرول میں دے سکتی ہے، اسے کئی حصوں میں تقسیم کرسکتی ہے اور اس کی حیثیت کو کم کرسکتی ہے۔بھارتی شہریوں کے لئے ایک اور پریشانی یہ بھی ہے کہ ایسی صورتحال کے خلاف کسی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھی اور جو احتجاج کیا بھی گیا وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ساری صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ بھارتی وفاق1947 ء کے مقابلہ میں اب کہیں زیادہ کمزور ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ساری صورتحال دراصل بھارتی سپریم کورٹ کے لئے ایک نئے امتحان کی حیثیت رکھتی ہے جو پہلے ہی ریاستوں کی خود مختاری کم کرنے کے اقدامت کی مخالفت کرچکی ہے۔

مزید خبریں