اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ افریدی نے کہا ہے کہ بروقت اور مؤثر عدالتی فیصلے نہ صرف آئینی فریضہ بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہیں۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ عدالتی اصلاحات کے بقایا کاموں کو تیز کیا جائے اور عوامی اعتماد قائم رکھنے کے لیے شفافیت، مالی نظم و ضبط اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔سپریم کورٹ کے شعبہ …
بروقت اور مؤثر عدالتی فیصلے نہ صرف آئینی فریضہ بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہیں،چیف جسٹس یحییٰ افریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ افریدی نے کہا ہے کہ بروقت اور مؤثر عدالتی فیصلے نہ صرف آئینی فریضہ بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہیں۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ عدالتی اصلاحات کے بقایا کاموں کو تیز کیا جائے اور عوامی اعتماد قائم رکھنے کے لیے شفافیت، مالی نظم و ضبط اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے جمعرات کو آٹھویں انٹرایکٹو اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔
اجلاس میں ریفارم ایکشن پلان (RAP) کے تحت عدالتی اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل جسٹس آٹومیشن کمیٹی (NJAC) کے چیئرمین جسٹس محمد علی مظہر، رجسٹرار سپریم کورٹ، ڈائریکٹر جنرل (ریفارمز)، آئی ٹی ایڈوائزر ہمایوں ظفر، سپریم کورٹ کے سیکشن ہیڈز، فیڈرل جسٹس ایجوکیشن ایکڈمی کے ڈائریکٹر جنرل اور سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے شرکت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ریفارم ایکشن پلان کے 86 اقدامات میں سے 36 مکمل، 45 زیر عمل، اور 13 جلد شروع ہونے والے ہیں۔ چیف جسٹس نے کیسز کی تقسیم، ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، آئی ٹی انٹیگریشن، عوامی سہولتوں اور آڈٹ میکانزم کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 61,900 ریکارڈز کے ہدف کے مقابلے میں 126,000 سے زائد ریکارڈز ڈیجیٹائز ہوچکے ہیں اور باقی کام مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ای-کورٹس پروجیکٹ، سافٹ ویئر اپ گریڈیشن، بہتر آئی ٹی انٹیگریشن اور کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق شدہ کاپیوں کی سہولت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف جسٹس نے تمام عدالتوں کی مکمل ڈیجیٹل کاری کے لیے فوکسڈ گروپ ڈسکشنز کرانے کی ہدایت دی۔عوامی سہولت، کالز و شکایات کے نظام میں بہتری، شہری فیڈ بیک کے لیے پروایکٹو رابطے، ثالثی (ADR) اور مصالحتی اقدامات، اور پرفارمنس و سیکیورٹی آڈٹس پر بھی غور کیا گیا۔








