برکس ممالک کے ساتھ سعودی عرب کی تجارت کا حجم 2023 کے دوران 196 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

ماسکو۔25اکتوبر (اے پی پی):سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ برکس ممالک کے ساتھ سعودی عرب کی تجارت کا حجم 2023 کے دوران 196 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو سعودی عرب کی مجموعی تجارت کا 37 فیصد ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سعودی وفد کی قیادت کرتے ہوئے روسی میزبانی میں ہونے والی برکس کانفرنس میں شرکت کی ۔ العربیہ …

ماسکو۔25اکتوبر (اے پی پی):سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ برکس ممالک کے ساتھ سعودی عرب کی تجارت کا حجم 2023 کے دوران 196 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو سعودی عرب کی مجموعی تجارت کا 37 فیصد ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سعودی وفد کی قیادت کرتے ہوئے روسی میزبانی میں ہونے والی برکس کانفرنس میں شرکت کی ۔

العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے کانفرنس میں سعودی وفد کے پرتپاک استقبال پر کانفرنس کے منتظمین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا ، سعودی عرب اور برکس ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی ذکر کیا ۔انہوں نے بتایا کہ 2023 کے دوران برکس ممالک کے ساتھ سعودی عرب کی تجارت کا حجم 196 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو سعودی عرب کی مجموعی تجارت کا 37 فیصد ہے۔

اسے ان کی طرف سے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس کا پلیٹ فارم سعودی عرب کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر تعاون کے مواقع کو حاصل کرے اور درپیش بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششوں کو شامل کرے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم دنیا کو درپیش چیلنجزکے مقابلے کے لیے کوششیں کریں، کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشیدگی بڑھ رہی ہے اور تصادم میں اضافہ ہو رہا ہے،اس کو کم کرنے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مملکت کے موقف کا اعادہ کیا، جو بین الاقوامی اداروں کی مضبوطی اور سب کے لیے برابری کے کردار کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔مشرق وسطیٰ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کی مذمت کی کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی کارروائی کر کے تباہی کی ہے، نیز اسرائیل نے اس جنگی کشیدہ صورتحال کو علاقائی سطح پر پھیلانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے غزہ کی پٹی پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل بلا روک ٹوک ممکن بنائی جائے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کی امن کوششوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے حال ہی میں ایک بین الاقوامی اتحاد شروع کیا ہے، جس کا مقصد دو ریاستی حل کو ممکن بنانا ہے، ان کوششوں کا مقصد 1967 کے فلسطینی بارڈر کو بحال کر کے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا وجود عمل میں لانا ہے ۔

سعودی وزیر خارجہ نےبرکس ممالک کی طرف سے فلسطینی کاز کے لئے یکجہتی کے اظہار پر ان کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی یہ حمایت فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور فلسطینی مسئلے کے حل کے لئے اہم ثابت ہوگی۔انہوں نےکہا کہ ان کا ملک برکس کے ساتھ تعاون پر تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے اور تمام شعبوں میں شراکت داری کو اہم سمجھتا ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب نے ابھی باقاعدہ طور پر برکس میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے، لیکن برکس کی تقریبات اور سرگرمیوں میں دعوت ملنے پر شرکت کرتا ہے۔

مزید خبریں