راولپنڈی ۔ 23 اگست (اے پی پی) بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم امریکہ سے کسی مادی یا مالی امداد نہیںبلکہ اعتماد ‘افہام وتفہیم اور اپنی خدمات کے اعتراف کے خواہاں ہیں ‘کسی بھی دوسرے ملک کی طرح ہمارے لئے بھی افغانستان میں امن اہمیت کا حامل ہے۔اس مقصد کے لئے ہم نے بہت کچھ کیا ،ہم کسی کی خوشنودی کے لئے نہیں …
بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
راولپنڈی ۔ 23 اگست (اے پی پی) بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم امریکہ سے کسی مادی یا مالی امداد نہیںبلکہ اعتماد ‘افہام وتفہیم اور اپنی خدمات کے اعتراف کے خواہاں ہیں ‘کسی بھی دوسرے ملک کی طرح ہمارے لئے بھی افغانستان میں امن اہمیت کا حامل ہے۔اس مقصد کے لئے ہم نے بہت کچھ کیا ،ہم کسی کی خوشنودی کے لئے نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد اور قومی پالیسی کے تحت بہترین انداز میں اپنا یہ کردار ادا کرتے رہیں گے ۔وہ بدھ کو پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے ملاقات میں آرمی چیف کو نئی امریکن پالیسی کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ اس موقع پر امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو امریکہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ‘ افغانستان مسئلے کے حل کے لئے پاکستان کا تعاون درکار ہے ۔بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کسی بھی دوسرے ملک کی طرح ہمارے لئے بھی افغانستان میں امن اہمیت کا حامل ہے۔اس مقصد کے لئے ہم نے بہت کچھ کیا اور ہم کسی کی خوشنودی کے لئے نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد اور اپنی قومی پالیسی کے تحت بہترین انداز میں اپنا یہ کردار ادا کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سے کسی مادی یا مالی امداد نہیںبلکہ اعتماد ‘افہام تفہیم اور اپنی خدمات کے اعتراف کے خواہاں ہیں ۔آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان میں دیرینہ جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام فریقین کے مابین اشتراک کار اور ہم آہنگی کامیابی کی کلید ہے ۔








