لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے مقدمات سے بری ہونے والے شہریوں کا نام پولیس ریکارڈ میں ظاہر کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں فل بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس علی ضیا باجوہ اور جسٹس فاروق حیدر شامل تھے۔
بری ہونے والے شہریوں کا نام پولیس ریکارڈ میں ظاہر کرنے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت، مزید دلائل طلب

مزید خبریں
لاہور۔4جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے مقدمات سے بری ہونے والے شہریوں کا نام پولیس ریکارڈ میں ظاہر کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں فل بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس علی ضیا باجوہ اور جسٹس فاروق حیدر شامل تھے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بری ہونے کے باوجود پولیس ریکارڈ میں نام موجود رہنے کے باعث شہریوں کے ویزے مسترد ہو جاتے ہیں اور انہیں بیرون ملک روزگار کے مواقع سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ وکیل کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے مختلف فیصلوں میں بری ہونے والے افراد کا نام پولیس ریکارڈ میں ظاہر کرنا غیر آئینی قرار دیا جا چکا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس شہباز رضوی نے ریمارکس دئیے کہ اگر کوئی سفارت خانہ کسی شخص کا ریکارڈ طلب کرے تو کیا یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ وہ کسی مقدمے میں نامزد تھا لیکن بعد ازاں بری ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی کا ریکارڈ ظاہر نہ کیا جائے تو کیا یہ حقائق چھپانے کے مترادف نہیں ہوگا۔ جسٹس شہباز رضوی نے مزید ریمارکس دیے کہ ملک میں بعض اوقات اصل مجرم بھی شواہد کے فقدان یا شک کا فائدہ ملنے پر بری ہو جاتے ہیں۔وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ایک پولیس افسر کی درج کردہ ایف آئی آر کی نسبت عدالت کے فیصلے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی نوعیت کے مقدمات بھی شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا کہ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ پولیس ریکارڈ کس مرحلے پر تشکیل پاتا ہے، آیا مقدمہ درج ہوتے ہی ریکارڈ بن جانا چاہیے یا سزا کے بعد، جبکہ جسٹس فاروق حیدر نے سوال اٹھایا کہ پولیس کو کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے نیز کریکٹر سرٹیفکیٹ کی قانونی تعریف کیا ہے اور کیا صرف مقدمہ درج ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد پر کسی کے کردار کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی حکم پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ پولیس آرڈر میں پولیس کریکٹر یا پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ کے حوالے سے واضح قانون موجود نہیں اور اس معاملے پر موثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دلائل سننے کے لیے عدالت نے درخواستوں کی سماعت ملتوی کر دی۔








