اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):بزنس ٹائیکون، مخیر اور سیکنڈ ورلڈ ٹریڈرز انکارپوریشن کے صدر عبدالرزاق صدیق نے دور دراز دیہی علاقوں میں رہنے والوں سمیت پاکستان کے ہر شہری کو سانپ کے کاٹنے کی ویکسین (اینٹی وینم سیرم) مفت فراہم کرنے کے حوالہ سے ایک تاریخی انسانی اقدام کا اعلان کیا ہے۔جمعرات کو یہاں ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرزاق صدیق نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں …
بزنس ٹائیکون اور سیکنڈ ورلڈ ٹریڈرز انکارپوریشن کے صدر عبدالرزاق صدیق کا پاکستانیوں کیلئے سانپ کے کاٹنے کی ویکسین مفت فراہم کرنے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):بزنس ٹائیکون، مخیر اور سیکنڈ ورلڈ ٹریڈرز انکارپوریشن کے صدر عبدالرزاق صدیق نے دور دراز دیہی علاقوں میں رہنے والوں سمیت پاکستان کے ہر شہری کو سانپ کے کاٹنے کی ویکسین (اینٹی وینم سیرم) مفت فراہم کرنے کے حوالہ سے ایک تاریخی انسانی اقدام کا اعلان کیا ہے۔جمعرات کو یہاں ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرزاق صدیق نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد سانپ کے ڈسنے سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر انسداد زہر تک بروقت رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اموات کی سالانہ تعداد ایک لاکھ 38 ہزار کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی ملک بھر میں سانپ کے زہر کی ویکسین کی مفت دستیابی کو یقینی بنا کر سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات کے خاتمہ کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان کے معروف مخیر ، فلپائن میں بزنس ٹائیکون اور سیکنڈ ورلڈ ٹریڈرز کے صدر کو صحت کے شعبے میں اپنی فلاحی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں پیسہ کمانے کے لیے موجود نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں انسانیت کی خدمت کرنے اور لوگوں کی جان بچانے میں مدد کیلئے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات کو روکا جا سکتا ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اینٹی وینم ہر گاؤں تک پہنچ جائے۔
عبدالرزاق صدیق فارماسیوٹیکل اور حیاتیاتی شعبے میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا گروپ فلپائن کی سب سے بڑی حیاتیاتی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر میں زندگی بچانے والی ویکسینز فراہم کرتا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ہماری کمپنی کی ویکسین پاکستان میں پہلے ہی 10 ارب روپے کی فروخت کا ہدف حاصل کر چکی ہے۔
انہوں نے ملک بھر میں سانپ کے زہر کی مفت ویکسین متعارف کرانے، تشنج کی ویکسین جلد شروع کرنے، بچوں کے لیے جان بچانے والی ویکسین فراہم کرنے، نمایاں طور پر کم قیمتوں پر کینسر کی دوائیں پیش کرنے اور عالمی حریفوں کے مقابلے میں انسانی جان بچانے والی سستی ادویات کو فروغ دینے کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ زندگی بچانے والی ادویات میں پیسے کا لالچ نہیں ہونا چاہیے اور ہماری ترجیح انسانیت ہے منافع نہیں۔
عبدالرزاق صدیق نے پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کے منصوبوں کے حوالہ سے کہا کہ ان میں کچھ مصنوعات ابتدائی طور پر درآمد کی جاتی ہیں اور بعد ازاں مقامی پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔انہوں نے ویکسینز اور حیاتیاتی مصنوعات میں بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کی فلپائن کو دواسازی کی برآمدات اس وقت تقریباً 457 ملین ڈالر ہیں جو صلاحیت سے بہت کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حیاتیاتی اور دواسازی کی برآمدات میں کم از کم ایک ارب ڈالر حاصل کرنا چاہیے اور ہم اسے ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی پہلے ہی پاکستان میں اپنا دفتر کھول چکی ہے اور سیرم اور زہر کی پیداوار سے متعلق معاہدوں پر دستخط کر چکی ہے۔
دریں اثناء انسانیت کا پیغام دیتے ہوئے اپنے خطاب کے اختتام پر عبدالرزاق صدیق نے کہا کہ انسانی جانوں کو بچانا ہم سب کی اخلاقی کی ذمہ داری ہے۔یہ اللہ کا انسانیت کے لیے پیغام ہے، ہم سب انسان ہیں اور جان بچانے کے لیے تعاون کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے بچے مستقبل میں بھی اس مشن کو جاری رکھیں گے۔








