بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس جمعرات کو صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین خیر جان بلوچ نے کی۔
بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس،تعمیرِ نو یونیورسٹی کوئٹہ بل 2026 پر غور کیا گیا
کوئٹہ۔ 10 ستمبر (اے پی پی):بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس جمعرات کو صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین خیر جان بلوچ نے کی۔
اجلاس میں کمیٹی کے اراکین رحمت صالح بلوچ، میر جہانزیب مینگل اور میر لیاقت علی لہڑی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ہاشم غلزئی،اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن، بورڈ ممبر تعمیر نو ٹرسٹ حافظ طاہر، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں تعمیر نو یونیورسٹی کوئٹہ بل 2026 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بل کا مقصد بلوچستان میں نجی شعبے کے تحت تعمیر نو یونیورسٹی کوئٹہ کا قیام عمل میں لانا ہے، تاکہ معیاری اعلی تعلیم، تحقیق، جدت اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے قیام سے اعلی تعلیم تک رسائی میں توسیع، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط کے فروغ، کاروباری صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کے فروغ سمیت صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں معاونت حاصل ہوگی۔ یونیورسٹی متعلقہ قوانین، حکومتی پالیسیوں اور حکومت بلوچستان و ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقرر کردہ معیار تعلیم اور کوالٹی ایشورنس کے اصولوں کے مطابق ڈگریاں جاری کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرے گی۔اس موقع پر رکن کمیٹی ممبر بلوچستان اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ تعمیرِ نو نے تعلیم کے فروغ اور معاشرتی بہتری کے لیے قابل ذکر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے بانیوں اور سرکردہ افراد نے معاشرے کی تعلیمی و سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کمیٹی کے اراکین نے بل کو ایک مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں نجی شعبے کے تحت ایک نئی یونیورسٹی کا قیام صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اراکین نے اس امر پر زور دیا کہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں کے تعلیمی اداروں کے درمیان صحت مند مسابقت، معیارِ تعلیم میں بہتری اور نوجوانوں کو جدید تعلیمی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی سرکاری جامعات کو بھی مناسب وسائل، انتظامی معاونت اور تحقیقی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ اعلیٰ تعلیم کا مجموعی نظام مضبوط ہو سکے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی خیر جان بلوچ نے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سے متعلق قانون سازی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ایسے بلوں کا جائزہ لیتے وقت صوبے کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے مفادات، معیارِ تعلیم اور طلبہ کے وسیع تر مفاد کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعلیم کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔









