بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کوئٹہ، صحبت پور اور حب میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد مراکز کا معائنہ کیا، خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کیے اور فوڈ سیفٹی معیار بہتر بنانے کے لیے اصلاحی نوٹس جاری کیے۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کوئٹہ، صحبت پور اور حب میں کارروائیاں، متعدد مراکز پر جرمانے اور اصلاحی نوٹس جاری

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 13 جولائی (اے پی پی):بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے) نے صوبے کے مختلف اضلاع میں خوراک کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد فوڈ کاروباری مراکز پر جرمانے عائد کیے اور اصلاحی نوٹس جاری کر دیے۔
ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق بی ایف اے کی انسپکشن ٹیم نے کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹائون منی مارکیٹ اور سریاب روڈ پر قائم مختلف مراکز کا معائنہ کیا، جہاں فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر دو بیکری شاپس، ایک پکوان ہائوس اور دیگر مراکز کے مالکان کو جرمانے کیے گئے۔حکام کے مطابق متعدد مراکز کے پاس فوڈ بزنس لائسنس موجود نہیں تھا جبکہ پکوان ہائوس اور بیکریوں میں صفائی کی ناقص صورتحال، کارکنوں کی ذاتی صفائی کا فقدان، کھلے کوڑے دان، اشیائے خورونوش کی تیاری میں مضر صحت رنگوں اور پابندی عائد چائنیز نمک کے استعمال، حشرات کی موجودگی، زائد المیعاد سموسہ پٹی، ایرانی لسی اور چاکلیٹس کی فروخت نیز مصنوعات پر مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری تاریخ درج نہ ہونے پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ادھر صحبت پور میں بی ایف اے کی زونل انسپکشن ٹیم نے مین بازار، حیردین روڈ، ڈیرہ اللہ یار روڈ اور شہر کے مختلف علاقوں میں چیکنگ کے دوران لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے والے متعدد کریانہ اور جنرل سٹورز مالکان کو جرمانے کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان دکانداروں کو پہلے بھی فوڈ بزنس لائسنس حاصل کرنے کی ہدایت کی جا چکی تھی جبکہ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر چار مراکز کو اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے۔دوسری جانب صنعتی شہر حب میں بھی بی ایف اے نے مختلف کھانے پینے کے مراکز کا معائنہ کیا۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی اور ممنوعہ اشیا، جن میں پابندی عائد چائنیز نمک اور گٹکا شامل ہیں، برآمد ہونے پر دو جنرل اسٹورز مالکان کو جرمانہ کیا گیا جبکہ معمولی نقائص دور کرنے کے لیے 21 مراکز کو اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کہا ہے کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں معائنوں اور قانونی کارروائیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔








