وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ہنر بھی فراہم کیا جا رہا ہے، بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی خصوصی بچوں کیلئے مزید اسکولز قائم کرنے کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ان خیالات کا …
بلوچستان میں خصوصی بچوں کیلئے مزید اسکول قائم کئے جائیں گے، اورنگزیب خان کچھی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 17 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ہنر بھی فراہم کیا جا رہا ہے، بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی خصوصی بچوں کیلئے مزید اسکولز قائم کرنے کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں پہلے سینٹر آف ایکسیلنس اور ڈیف ریچ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں وفاقی سیکرٹری اسد رحمن گیلانی، سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریشی، ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود سیف اللہ کھیتران، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو نادر گل بڑیچ، ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ،صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت طاہرہ بلوچ، اور دیگر حکام و شخصیات موجود تھیں۔تقریب میں تلاوت کلام پاک کے بعد اشاروں کی زبان میں تلاوت کا ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے کہا کہ ڈیف اسکول کا دورہ کرکے انہیں فخر محسوس ہو رہا ہے، خصوصی بچوں کیلئے اس اسکول کو فعال بنانا اہم اقدام ہے۔ ڈونرز کے تعاون سے اسٹیٹ آف دی آرٹ اسکولز کے قیام سے خصوصی بچوں کیلئے بہتر تعلیمی نظام پروان چڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت خصوصی بچوں کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے اور صوبے کے مختلف اضلاع میں ان کیلئے مزید اسکولز قائم کئے جائیں گے۔ خصوصی بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف ہنر بھی سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کو وفاق کی جانب سے جس تعاون کی ضرورت ہوگی، وفاقی حکومت اس کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ و طالبات سے ملاقات اور گفتگو ہوئی ہے اور حکومت اپنے لوگوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم، تربیت اور فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات جاری ہیں اور اس شعبے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے،کمک پروگرام خاص طورپر اسپیشل افراد کیلئے شروع کیاگیاہے۔ سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریشی نے کہا کہ ڈیف ریچ سینٹر کا قیام خوش آئند ہے۔ سماجی بہبود محکمہ کمک پروگرام کے تحت خصوصی بچوں کی تعلیم، ٹرانسپورٹ، سماعت کے آلات، خصوصی افراد کی شادی کے اخراجات، ماہانہ مالی امداد اور خصوصی بچوں کیلئے پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے تحت سات بیماریوں کا علاج معالجہ بھی کیا جاتا ہے، جبکہ اس منصوبے کے پینل میں ملک بھر کے 17 بڑے اسپتال شامل ہیں۔ بلوچستان کے 41 اضلاع میں سماجی بہبود کے مراکز قائم ہیں جہاں کم خواندہ بچوں کو مختلف ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود سیف اللہ کھیتران نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور حاجی ولی محمد نورزئی کی ہدایات پر پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے تعاون سے ڈیف اسکول کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ اسکول میں معیاری تعلیم کے ساتھ خصوصی بچوں کو ہنر بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو دیگر بچوں کی نسبت کم سہولیات میسر ہیں جو افسوسناک ہے، ان بچوں کو زیادہ توجہ اور وسائل کی ضرورت ہے۔ حکومت بلوچستان ڈونرز کے تعاون سے خصوصی بچوں کو درپیش مسائل کے حل اور تعلیم سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی۔پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ نے کہا کہ پی پی اے ایف 2000 سے ملک بھر میں غربت کے خاتمے کیلئے کام کر رہا ہے، بالخصوص صحت اور تعلیم سمیت انسانی زندگی سے جڑے مختلف شعبوں میں اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت 2390 بچے اور بچیاں پی پی اے ایف کی اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن کی تعداد آئندہ سال 3500 تک پہنچانے کا ہدف ہے۔انہوں نے کہا کہ غربت سے نکالنے کا عمل ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ سماجی بہبود محکمہ، پی پی اے ایف اور ایف ای ایس ایف کے اشتراک سے بلوچستان میں ڈیف بچوں کیلئے کام شروع کیا گیا اور ڈیف اسکول کی عمارت کی تزئین و آرائش کی گئی۔ چھ ماہ کے عرصے میں ڈیف ریچ سینٹر کے ذریعے ادارے کو فعال بنایا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیٹلائٹ اسکولز کے ذریعے اس پروگرام کو بلوچستان کے مزید علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔
ایف ای ایس ایف کے محمد اسامہ نے کہا کہ ملک بھر میں اسکولوں سے باہر موجود 26 ملین بچوں کو دوبارہ تعلیمی اداروں میں لانے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں دس لاکھ سے زائد خصوصی بچے ہیں جنہیں تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی کہ خصوصی بچوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں 108 مقامات پر خصوصی بچوں کیلئے اسکول قائم کئے گئے ہیں۔







