بلوچستان میں صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے سرگرمیاں تیز، اے ڈی بی اور عالمی بینک سے تعاون بڑھانے پر اتفاق

سیکرٹری صحت حکومتِ بلوچستان مجیب الرحمن کی زیرِ صدارت بدھ کو 2اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، عالمی بینک اور محکمہ صحت کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں صوبے میں نرسنگ سینٹر آف ایکسیلنس، الائیڈ ہیلتھ فیکلٹی کے قیام، بنیادی صحت کی سہولیات کی بہتری اور جاری صحت اصلاحات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا

کوئٹہ۔ 01 جولائی (اے پی پی):سیکرٹری صحت حکومتِ بلوچستان مجیب الرحمن کی زیرِ صدارت بدھ کو 2اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، عالمی بینک اور محکمہ صحت کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں صوبے میں نرسنگ سینٹر آف ایکسیلنس، الائیڈ ہیلتھ فیکلٹی کے قیام، بنیادی صحت کی سہولیات کی بہتری اور جاری صحت اصلاحات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔پہلے اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندے منصور علی خان، ڈوپاسی پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر کنزہ اور محکمہ صحت کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان میں نرسنگ سینٹر آف ایکسیلنس اور الائیڈ ہیلتھ فیکلٹی کے قیام، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ شعبوں میں معیاری تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، استعدادِ کار میں اضافے اور صوبے میں صحت کے شعبے کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔دوسرے اجلاس میں محکمہ صحت حکومتِ بلوچستان اور عالمی بینک کے درمیان بنیادی صحت کی سہولیات کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں صوبے میں جاری صحت اصلاحات، صحت کے نظام کو درپیش ساختی چیلنجز، عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، رسائی میں بہتری اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری صحت ثاقب کاکڑ، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر ایم بی دھاریجو، عالمی بینک کی سینئر ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر عالیہ کاشف، ڈاکٹر سارہ شہزاد، ڈاکٹر ابابگر بلوچ، ڈاکٹر شاہ کوہ مینگل، شیراز خان، ہارون کاسی اور محکمہ صحت کے دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان کے وسیع رقبے، منتشر آبادی، دشوار گزار علاقوں، موسمیاتی اثرات اور محدود مالی وسائل جیسے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحت کی خدمات کی موثر فراہمی، کمیونٹی آٹ ریچ، انسانی وسائل کی استعدادِ کار میں اضافے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے تعاون سے صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جائے گا۔