پاکستان اور چین سی پیک 2.0 کے تحت اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہےپاکستان اور چین چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)فیز 2.0 کے تحت اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، اس اہم منصوبے کے اگلے مرحلے میں صنعت کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی ،معدنیات اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی،چین کے ساتھ ہر موسم کی آزمودہ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی …

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہےپاکستان اور چین چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)فیز 2.0 کے تحت اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، اس اہم منصوبے کے اگلے مرحلے میں صنعت کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی ،معدنیات اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی،چین کے ساتھ ہر موسم کی آزمودہ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ بدھ کے روز چینی سفارت خانے کی جانب سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کے قیام کی 105ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئےنائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اور ارکان کو مبارکباد دی اور سی پی سی کی قیادت میں چین کی غیر معمولی ترقی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین کی بے مثال معاشی کامیابی اور کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنے کا کارنامہ نہ صرف چینی عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے باعثِ فائدہ بنا ہے، جبکہ مشترکہ خوشحالی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور نے عالمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تعلق کئی نسلوں پر محیط ہے اور باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعاون کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بنیادی قومی مفادات کی بھرپور حمایت کی ہے، جس سے ان کی ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔

اسحاق ڈار نے سی پیک کو دوطرفہ تعلقات کا ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2015 میں اس کے آغاز نے دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے نئے دروازے کھولے۔ ان کے مطابق اس منصوبے نے پاکستان میں توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے، شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور بالخصوص کم ترقی یافتہ علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز 2.0 اعلیٰ معیار کی ترقی پر مرکوز ہوگا، جس میں صنعت کاری، زراعت، کان کنی و معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرحلہ پاکستان کے 5E ترقیاتی فریم ورک سے ہم آہنگ ہے، جس میں برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، توانائی و انفراسٹرکچر کو ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سی پیک 2.0 کے تحت پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی دونوں ممالک کے لیے مزید خوشحالی، جدت اور مشترکہ ترقی کا باعث بنے گی، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل پاک چین برادری کے قیام کو بھی نئی رفتار ملے گی۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان جماعتی سطح پر روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان روابط سے باہمی اعتماد، حکمرانی کے تجربات کے تبادلے اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار میں آنے والی ہر سیاسی جماعت نے چین کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ہے۔ نائب وزیراعظم نے علاقائی امن اور عالمی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور بیجنگ نہ صرف اپنے عوام بلکہ عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے وسیع تر مقصد کے لیے بھی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جماعتی سطح پر مسلسل روابط نے باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 24 مئی کو اپنے حالیہ دورۂ بیجنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریب میں، جو سی پی سی کے بین الاقوامی شعبے کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔