بلوچستان حکومت نے بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے اور صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے کوئٹہ کے پرائمری سکولوں کے طلبہ کے لیے 1.58 ارب روپے مالیت کا سکول میل پروگرام شروع کر دیا ہے
بلوچستان میں 1.58 ارب روپے کا سکول میل پروگرام شروع

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):بلوچستان حکومت نے بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے اور صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے کوئٹہ کے پرائمری سکولوں کے طلبہ کے لیے 1.58 ارب روپے مالیت کا سکول میل پروگرام شروع کر دیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق بلوچستان نے ماں اور بچے کی صحت، سکولوں میں غذائیت، واٹر، سینی ٹیشن اینڈ ہائجین (واش) انفراسٹرکچر اور ڈی ورمنگ پروگرامز کو اپنی ترقیاتی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔کوئٹہ کے پرائمری سکولوں کے طلبہ کے لیے سکول میل پروگرام پائلٹ بنیادوں پر شروع کیا گیا ہےجس کی مجموعی لاگت 1.579 ارب روپے ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران اس کے لیے 315.9 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔یہ پروگرام صوبے میں جاری غذائیت سے متعلق متعدد منصوبوں میں سے ایک ہےجن کا مقصد بچوں کی صحت اور غذائی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔
دستاویزات کے مطابق بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت کا جامع پروگرام بھی جاری ہے، جس کی کل لاگت 2 ارب روپے ہےجبکہ اس کے لیے 228.8 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح سکولوں میں واٹر، سینی ٹیشن اینڈ ہائجین (واش) سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک علیحدہ منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے، جس کی مجموعی لاگت 2 ارب روپے اور رواں سال کے لیے مختص رقم 200 ملین روپے ہے۔رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے ایسٹرن بائی پاس کے مقام پر ماں، نومولود اور بچے کی صحت کی ایک جدید سہولت قائم کی گئی ہےجس پر مجموعی طور پر 400 ملین روپے لاگت آئے گی جبکہ اس منصوبے کے لیے 200 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔یہ تمام منصوبے بلوچستان میں صحت اور غذائیت کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ حکومت نے غذائیت، ماں اور بچے کی صحت، سکولوں پر مبنی مداخلتوں اور صفائی کے بنیادی ڈھانچے کو صوبے کی اہم ترقیاتی ترجیحات قرار دیا ہے۔








