بلوچستان ہیلتھ کیئرکمیشن کی ٹیم نے صوبے میں صحت کے اداروں کی نگرانی، معیارِ صحت کی بہتری اور بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے چمن اور کوئٹہ میں مختلف معائنہ جاتی دورے کیے۔
بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کی چمن اور کوئٹہ میں کارروائیاں، غیر رجسٹرڈ کلینکس اور لیبارٹریز کو جرمانے

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 13 مئی (اے پی پی):بلوچستان ہیلتھ کیئرکمیشن کی ٹیم نے صوبے میں صحت کے اداروں کی نگرانی، معیارِ صحت کی بہتری اور بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے چمن اور کوئٹہ میں مختلف معائنہ جاتی دورے کیے۔چمن میں بی ایچ سی سی ٹیم نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فدا بلوچ، ڈی ایچ او ڈاکٹر نوید بادینی، ایم ایس ٹی ایچ کیو ڈاکٹر اویس اور پی پی ایچ آئی کے ضلعی منیجر محمد اکرم کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا، جس میں بی ایچ سی سی کے مینڈیٹ، لائسنسنگ، اینٹی کویکری قوانین اور ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 پر عملدرآمد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بعدازاں ٹیم نے پرانے اور نئے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور طبی سہولیات کے معیار، مریضوں کی حفاظت اور BHCC قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔
بی ایچ سی سی ٹیم نے ایک این جی او کے زیر انتظام ہیلتھ کیئر ادارے کا بھی دورہ کیا جہاں کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن نہ ہونے پر نوٹس جاری کیا گیا۔ اسی طرح ایک پولی کلینک کے معائنے کے دوران غیر رجسٹریشن پر جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ متعلقہ لیبارٹری میں قواعد کی خلاف ورزیوں پر جرمانے کے ساتھ خدمات بند کرنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔مزید برآں بی ایچ سی سی ٹیم نے ہیلتھ کارڈ اور اسٹیٹ لائف انشورنس حکام کے ہمراہ ڈاکٹر ہسپتال اور بلوچ خان ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انتظامیہ کو Key Patient Safety Areas (KPSA) اور BHCC ریگولیشنز کے حوالے سے آگاہی دی گئی اور رجسٹریشن کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
دوسری جانب کوئٹہ میں سرکی روڈ، اختر محمد روڈ اور فقیر محمد روڈ کے علاقوں میں بی ایچ سی سی کی انفورسمنٹ ٹیم نے 7 جنرل پریکٹیشنر کلینکس اور ایک ڈینٹل کلینک کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران دو جی پی کلینکس کو بی ایچ سی سی کے ساتھ غیر رجسٹریشن، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول (IPC) ایس او پیز کی عدم موجودگی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر نوٹسز جاری کیے گئے۔بلوچستان ہیلتھ کیئرکمیشن کے فوکل پرسن ڈاکٹربسم اللہ کاکڑ کے مطابق کمیشن بلوچستان بھر میں معیاری طبی سہولیات، مریضوں کے تحفظ، کلینیکل گورننس کے فروغ اور عطائیت کے خاتمے کیلئے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔







