پشاور۔ 13 جنوری (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اس وقت صوبے کے بندوبستی و ضم اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، پولیس اور مسلح افواج دہشتگردوں کےخلاف آپریشن میں جان کی قربانیاں دے رہی ہیں، صوبائی حکومت کو اس صورتحال پر قابو پانے کےلئے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ترجمان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل …
بندوبستی و ضم اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی ، پولیس اور مسلح افواج قربانیاں دے رہی ہیں، صوبائی حکومت صورتحال پر قابو پانے کےلئے سنجیدگی سے غور کرے،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 13 جنوری (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اس وقت صوبے کے بندوبستی و ضم اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، پولیس اور مسلح افواج دہشتگردوں کےخلاف آپریشن میں جان کی قربانیاں دے رہی ہیں، صوبائی حکومت کو اس صورتحال پر قابو پانے کےلئے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ترجمان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روزگورنر ہائوس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان سرزمین ملوث ہونے کے ثبوت مانگتی ہے، کبھی اپنی ریاست سے بھی ثبوت مانگے جاتے ہیں ، پوری دنیا نے کہا ہے کہ افغان سرزمین ہمارے صوبے اور ملک میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت افغانستان اور ٹی ٹی پی کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے صوبے اور ملک میں پائیدار امن کےلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ کرم کے بعد لوگ اب ضلع خیبر سے بھی نقل مکانی کر رہے ہیں، صوبائی حکومت کو آئی ڈی پیز کےلئے ابھی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔گورنر کا کہنا تھا کہ وفاق یہ مت سمجھے کہ وہ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن میں ہیں تو صوبے میں بڑے منصوبے شروع ہی نہیں کرنے ،وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ خیبرپختونخوا آئیں اور یہاں بھی لیپ ٹاپ کی تقسیم، دانش سکول کے افتتاح سمیت بڑے منصوبے شروع کریں تاکہ یہاں کے عوام کا بھی وفاقی حکومت پر اعتماد بڑھے، کرکٹ بورڈ کو بھی چاہیے کہ وہ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں عالمی معیار کے سٹیڈیم تیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کےلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، ہمارے صوبے کو امن چاہئے ۔ گورنر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو دورہ کراچی کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے نہ صرف خوش آمدید کہا گیا بلکہ ان کو فل سکیورٹی بھی فراہم کی گئی، کراچی میں وزیرا علیٰ خیبرپختونخوا کو اپنے شیڈول پروگرامز میں کہیں بھی کوئی مسئلہ یا کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن وہ جب اپنا روٹ تبدیل کرنے کی وجہ سے ٹریفک رش میں پھنس گئے تو الزام سندھ حکومت پر ڈال دیا، مزار قائد جناح پارک میں جلسہ کرنے کے بجائے مزار قائد کے مرکزی گیٹ روڈ پر جلسہ کر کے شاید ٹریفک کو جلسہ بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ انتشار کی سیاست کی ، یہ خود کو بڑی سیاسی جماعت کہتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی ایک شخص ایسا نہیں جس کو یہ وفاق میں اپوزیشن لیڈر بنا سکیں۔
گورنر نے کہا کہ وہ ایک دفعہ پھر صوبائی حکومت کو کہنا چاہیں گے کہ صوبے کے امن کےلئے کام کرے اور افغانستان کی فکر مت کرے، آئی ڈی پیز کو ابھی سے سنبھالنے کی تیاری کریں اور اپنی مسلح افواج اور پولیس کا دہشتگردی کےخلاف ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس بہادر ہے لیکن صوبائی حکومت نے اس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے میں کوئی کام نہیں کیا، پولیس کےلئے جدید ہتھیار اور بلٹ پروف گاڑیاں نہیں لی گئیں جبکہ جو گاڑیاں وفاق نے بجھوائیں ان کو لینے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر صوبے کے امن کےلئے کام کرنا ہو گا۔








