ڈھاکہ ۔2فروری (اے پی پی):بنگلہ دیش میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کی نگرانی کرنے والے حقوق کے گروپوں کے مطابق ملک میں گزشتہ سال کے دوران عصمت دری اور جنسی تشدد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ بنگلہ دیش مہیلا پریشد (BMP) کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 786 خواتین اور لڑکیاں عصمت دری اور …
بنگلہ دیش میں گزشتہ سال کے دوران عصمت دری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا، رپورٹ

مزید خبریں
ڈھاکہ ۔2فروری (اے پی پی):بنگلہ دیش میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کی نگرانی کرنے والے حقوق کے گروپوں کے مطابق ملک میں گزشتہ سال کے دوران عصمت دری اور جنسی تشدد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ بنگلہ دیش مہیلا پریشد (BMP) کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 786 خواتین اور لڑکیاں عصمت دری اور اجتماعی عصمت دری کا شکار ہوئیں جو سالانہ بنیادوں پر 52.3 فیصد اضافہ ہے ، 2024 میں یہ تعداد 516 تھی۔
ان متاثرین میں سے 543 لڑکیاں تھیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 47.9 فیصد زیادہ ہے۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق بنگلہ دیش مہیلا پریشد کی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں شائع ہونے والے نتائج، خاص طور پر نابالغوں کے خلاف جنسی تشدد میں پریشان کن اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔تنظیم کے مطابق 18 سال سے کم عمر خواتین کو لڑکیاں شما ر کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش مہیلا پریشد کی مرکزی قانونی امداد کی ذیلی کمیٹی کی طرف سے مرتب کردہ 15 قومی روزناموں کی رپورٹوں کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ گزشتہ سال بنگلہ دیش میں 2,808 خواتین اور لڑکیوں کو مختلف قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ان میں، 1571 خواتین اور 1234 لڑکیاں تھیں، جس کو عوامی تحفظ کا بحران قرار دیا گیا ہے۔ان واقعات میں جنسی تشدد کا بڑا حصہ تھا۔
2025 میں 179 متاثرین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں 104 لڑکیاں اور 75 خواتین شامل تھیں۔عصمت دری کی کوشش کے مزید 188 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جب کہ سات متاثرین نے عصمت دری کے بعد خودکشی کر کےاپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ جنسی طور پر ہراساں کرنے سے 169 افراد متاثر ہوئے جن میں 112 لڑکیاں بھی شامل تھیں۔رپورٹ میں بدسلوکی کی دیگر اقسام میں اضافے کو بھی دستاویز کیا گیا ہے۔
739 افراد کو عصمت دری سے متعلق وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا، جن میں 632 خواتین اور 107 لڑکیاں شامل تھیں، جب کہ 230 اموات کو پراسرار قرار دیا گیا۔کم از کم 196 افراد نے مختلف قسم کے بدسلوکی کی وجہ سے خودکشی کرلی ۔ دیگر رپورٹ کیے گئے جرائم میں جہیز سے متعلق تشدد (52 کیسز)، تیزاب کے حملے (9) اور جلنے کے زخم (34) شامل ہیں۔
24 لڑکیوںسمیت 55 افراد انسانی اسمگلنگ سے متاثر ہو ئے جبکہ سائبر تشدد کے 19 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ بنگلہ دیش مہیلا پریشد نے2024 میں عصمت دری کے 516 متاثرین بارے اعداد و شمار کو دستاویزی شکل دی جن میں 367 لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ اس سال، 142 متاثرین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، 23 کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، اور 6 نے خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ عصمت دری کی کوشش کے 94 واقعات بھی سامنے آئے۔
مجموعی طور پر 2024 میں میڈیا میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے 2525 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 528 اموات ہوئیں، جن میں 451 خواتین اور 77 لڑکیاں شامل تھیں۔ایک اور ادارےعین و سلیش کیندرا کے اعداد و شمار سے بھی بنگلہ دیش مہیلا پریشد کے نتائج کی تصدیق ہو تی ہے۔ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی ایک حالیہ رپورٹ میں، پولیس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، پتہ چلا ہے کہ 2024 کی اسی مدت کے مقابلے 2025 کی پہلی ششماہی میں صنفی بنیاد پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔








