بچوں کےعالمی دن پر اہم عمارتوں کو نیلے رنگ کی روشنیوں سے سجادیا گیا

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):بچوں کے عالمی دن کے موقع پر درہ خیبر سے مزارِ قائد کراچی تک، لاہور کے شاہی قلعے سے زیارت میں قائد اعظم کی رہائش گاہ تک اور اسلام آباد میں یادگارِ پاکستان سمیت پاکستان کی 30 اہم تاریخی اور یادگاری عمارات کو نیلے رنگ کی روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ پاکستان میں یونیسف نے یہ اقدام وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق کے ساتھ مل کر …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):بچوں کے عالمی دن کے موقع پر درہ خیبر سے مزارِ قائد کراچی تک، لاہور کے شاہی قلعے سے زیارت میں قائد اعظم کی رہائش گاہ تک اور اسلام آباد میں یادگارِ پاکستان سمیت پاکستان کی 30 اہم تاریخی اور یادگاری عمارات کو نیلے رنگ کی روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ پاکستان میں یونیسف نے یہ اقدام وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق کے ساتھ مل کر اٹھایا اور اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ بچوں کے حقوق کے کنونشن (سی آر سی) کی روشنی میں ملک کے ہر بچے کو اس کے تمام حقوق فراہم کئے جائیں گے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں اہم، تاریخی اور یادگاری عمارات کو علامتی طور پر نیلے رنگ کی روشنی سے روشن کرنے کا یہ مسلسل تیسرا سال ہے اور اس کا مقصد دنیا کی توجہ بچوں کے حقوق کے کنونشن کی بنیاد بننے والے نصب العین (وژن) کی طرف دلانا ہے تاکہ بچوں کے حقوق پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہر بچے کے لئے حقیقت کا روپ دھار سکیں۔ بچوں کے عالمی دن کے موقع پر یونیسف کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے باعث موجودہ صورتحال بچوں کے حقوق کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں منائے جانے والے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر یونیسف کورونا وباء پر اپنی نئی رپورٹ ’ایورٹنگ لوسٹ کووِڈ جنریشن“ جاری کی ہے جس میں وبا کی صورتِ حال جاری رہنے سے بچوں پر ہونے والے خطرناک حد تک منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ عام طور پر بچوں میں کووِڈ- 19 کی علامات شدت اختیار نہیں کرتیں تاہم بچوں میں اس کے اثرات دیر تک رہتے ہیں اور ان کی تعلیم، غذائیت اور صحت کی خدمات پر منفی اثرات مرتب ہونے سے ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔ کووِڈ۔19 کی عالمی وبا کے دوران یہ غلط فہمی مسلسل پھیلائی جاتی رہی ہے کہ اس بیماری کے بچوں پر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچے نہ صرف بیماری سے متاثر ہوسکتے ہیں بلکہ بیماری پھیلانے کا بھی باعث بن سکتے ہیں لیکن یہ ایک بڑے مسئلے کا محض مختصر حصہ ہے۔ بچوں کے لئے ضروری خدمات کی فراہمی میں تعطل اور غربت کی شرح میں اضافہ بچوں کے لئے اس سے بھی کہیں بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ بحران جس حد تک طول پکڑے گا بچوں کی تعلیم، صحت، غذا اور زندگیوں پر اس کے اس قدر زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کی موجودہ نسل کا مستقبل شدید خطرے میں پڑچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق (3 نومبر تک) 87 ممالک جن میں مختلف عمر کے لوگوں کے اعداد و شمار جمع کئے ہیں وہاں کووِڈ۔19 سے متاثر ہونے والے بچوں یا نو بالغوں کی تعداد 9 میں سے 1 یا پھر 25.7 ملین کی آبادی میں 11 فی صد رہی ہے۔ عمر کے تناسب سے حاصل کردہ زیادہ قابلِ اعتماد اعداد و شمار کے مطابق بیماری، اموات اور ٹیسٹ کی بہتر سہولیات کی مدد سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کووِڈ۔19 کا عالمی بحران زیادہ خطرات کا شکار بچوں کو کس حد تک متاثر کر رہا ہے اور اس صورتحال کے موثر جوابی اقدامات کیا ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ عائدہ گرما نے اس موقع پر کہا کہ کووڈ ۔ 19 کی وجہ سے آنے والا بحران بچوں کے حقوق کا بحران ہے۔ ہم سب کو اس سلسلے میں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی وبا بچوں کی تعلیم، غذا اور صحت کو وہ نقصان پہنچا رہی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہر بچے کو وہ ضروری خدمات فراہم کی جارہی ہیں جن کا حصول اس کا بنیادی حق ہے۔ ان خدمات سے بچوں کی بقا، صحت، تعلیم اور ان کی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا حق مشروط ہے۔ یونیسف پاکستانی بچوں اور لوگوں کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے تاکہ وہ وبائی صورتحال سے جلد از جلد نجات حاصل کرسکیں۔ ہم حکومت پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے تاکہ پاکستان کا کوئی بھی بچہ پیچھے نہ رہ پائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بنیادی حفاظتی انتظامات کا خیال رکھا جائے تو بچوں کے لئے سکول کھلے رکھنا سکول بند کرنے کی نسبت کم نقصان دہ ہے کیونکہ سکول گلی محلے کی سطح پر وائرس کے پھیلاو¿ کا بنیادی ذریعہ نہیں ہیں اور اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ بچے سکول کی بجائے سکول سے باہر وائرس کا شکار ہو جائیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کووِڈ۔19 کی وجہ سے صحت اور سماجی خدمات کی معطلی بچوں کے لئے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ یونیسف کے مذکورہ سروے کے دوران 140 ممالک سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے استعمال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جن ممالک سے اعداد و شمار جمع کئے وہاں صحت کی سہولیات اور خدمات میں کووِڈ۔ 19 کی وجہ سے 10 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جن میں معمول کی ویکسین کی فراہمی، بچوں کی بیماریوں کے علاج اور زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات میں کمی شامل ہے اور اس کمی کی وجہ کووِڈ۔ 19 کا شکار ہونے کا خوف ہے۔ 135 ممالک میں عورتوں اور بچوں کے لئے غذائی خدمات کی فراہمی میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اکتوبر 2020ءمیں 265 ملین بچے سکول کے کھانے سے محروم ہوچکے تھے۔ اس وقت یہ خدشہ پیدا ہوچکا ہے کہ 5 سال سے کم عمر کے 250 ملین بچے وٹامن اے فراہم کرنے والے پروگرام سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ 65 ممالک سے حاصل شدہ اعداد و شمار یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ستمبر 2020ءتک سوشل ورکرز کے گھروں کے دوروں کی تعداد میں گذشتہ سال کی نسبت واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں منظرِ عام پر آنے والے مزید پریشان کن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک گیر سطح پر سکولوں کی بندش کی وجہ سے 30 ممالک میں 572 ملین بچے متاثر ہوئے ہیں جو دنیا بھر میں سکول جانے والے بچوں کی کل تعداد کا 33 فی صد ہے۔ غذائی خدمات میں آنے والے تعطل اور ناقص غذا میں اضافے کی وجہ سے 12 ماہ کے عرصے میں 2 ملین مزید بچوں کی اموات اور دو لاکھ مردہ بچوں کی پیدائش کے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ 2020ءمیں 5 سال سے کم عمر کے 6 سے 7ملین بچے ناقص غذا کی نشو و نما کی کمی کا شکار ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس سال ان مسائل کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات میں 14 فی صد تک اضافہ ہوگا اور ہر ماہ خاص طور پر افریقہ اور نیم صحرائی افریقہ میں ناقص غذا کی وجہ سے 10 ہزار اضافی اموات واقع ہوں گی۔ عالمی سطح پر کثیر الجہت افلاس کا شکار بچوں جن کو تعلیم، صحت، رہائش، غذا، صحت و صفائی اور پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے، کی تعداد میں 15 صد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2020ءکے وسط میں 150 ملین بچے کثیر الجہت غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس بحران کے جوابی اقدامات کے طور پر یونیسف دنیا بھر کی حکومتوں اور شراکت داروں پر زور دے رہا ہے کہ وہ تمام بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی یقینی بناتے ہوئ، اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، صحت اور غذائی تحفظ کی خدمات تک رسائی بچوں کےعالمی دن پر اہم عمارتوں کو نیلے رنگ کی روشنیوں سے سجادیا گیا

 

مزید خبریں