بچوں کے حقوق صرف آئینی وعدہ نہیں، عملی حقیقت بننا چاہئے ، جسٹس عائشہ اے ملک

سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا ہے کہ بچوں سے مشقت (چائلڈ لیبر) کے خاتمے کے لئے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ بچوں کے حقوق محض آئینی وعدہ نہ رہیں بلکہ عملی حقیقت بن سکیں

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا ہے کہ بچوں سے مشقت (چائلڈ لیبر) کے خاتمے کے لئے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ بچوں کے حقوق محض آئینی وعدہ نہ رہیں بلکہ عملی حقیقت بن سکیں۔بچوں کے حقوق سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ پاکستان کا آئین بچوں کے حقوق، تعلیم، وقار اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ ملکی قوانین اور بین الاقوامی معاہدے بھی چائلڈ لیبر کی ممانعت کرتے ہیں تاہم مختلف رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بڑی تعداد میں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں اور مشقت پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ قانون سازی نہیں بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد ہے، کسی بھی قانونی نظام کی کامیابی اس کے وعدوں میں نہیں بلکہ ان نتائج میں ہوتی ہے جو وہ لوگوں کی زندگیوں میں پیدا کرتا ہے، اگر بچے اب بھی مزدوری کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ قانون اور ریاستی وعدوں کے درمیان ایک خلا ء موجود ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ چائلڈ لیبر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل صرف ایک ادارہ یا محکمہ نہیں نکال سکتا۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی، مضبوط شراکت داری اور مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صوبوں میں قوانین اور عمر کی حدود میں فرق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ پورے ملک میں یکساں نہیں۔انہوں نے اعداد و شمار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شفاف، قابلِ اعتماد اور مستقل ڈیٹا کے بغیر مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق چائلڈ لیبر کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو اعداد و شمار میں شامل نہیں، خصوصاً گھریلو کاموں میں مصروف بچیاں، جن کی محنت اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ امر تشویشناک ہے کہ ملک میں چائلڈ لیبر سے متعلق آخری جامع سروے 1996 میں کیا گیا تھا جو اس مسئلے کو دی جانے والی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔ ریاست کو اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے وسائل کو بچوں کی تعلیم، صحت اور فلاح پر مرکوز کرنا ہوگا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف جدوجہد کو محض ریسکیو اور ریلیف تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ توجہ روک تھام اور بنیادی تبدیلی پر ہونی چاہئے۔ اس مقصد کے لئے بچوں، والدین، خصوصاً ماؤں اور متاثرہ طبقات کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے تجربات اور ضروریات کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں موجود بعض رویے اور سوچ بھی چائلڈ لیبر کے فروغ کا باعث بنتی ہیں، بچوں کی مزدوری کو معمول سمجھنے کی بجائے اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، ہر بچے کا حق ہے کہ وہ سکول جائے، کھیل کود کرے اور ایک محفوظ و خوشحال بچپن گزارے۔ تقریب سے خطاب کے اختتام پر جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ قانون کی اصل کامیابی ان حقوق میں نہیں جو وہ بیان کرتا ہے بلکہ اس حقیقت میں ہے جو وہ لوگوں کی زندگیوں میں پیدا کرتا ہے۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے حکومت، اداروں اور معاشرے کو مل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔