بچوں کے غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال نے سماجی، نفسیاتی اورسکیورٹی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے،بچوں کی جانب سے محفوظ، ذمہ درانہ اور باشعور سوشل میڈیا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے
بچوں کے غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال نے سماجی، نفسیاتی اورسکیورٹی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے، رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):بچوں کے غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال نے سماجی، نفسیاتی اورسکیورٹی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے،بچوں کی جانب سے محفوظ، ذمہ درانہ اور باشعور سوشل میڈیا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے ۔بچوں میں سوشل میڈیا کے استعمال کے اثرات کے حوالے سے کی گئی تحقیق پر عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھرمیں بچوں کا سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال کئی سماجی، نفسیاتی اورسکیورٹی خطرات کو جنم دینے لگا ہے ۔امریکی تحقیقاتی ادارےکے مطابق بچوں میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال خراب نیند، بے چینی، ڈپریشن اور تعلیمی مشکلات میں اضافہ کا سبب ہے۔
اس حوالے سے سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ابتدائی عمر میں سکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی، سماجی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔عرب نیوز کی رپور ٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال بچوں اور نوجوانوں کی دماغی نشوونما، رویوں اور جذباتی صحت پراثر انداز ہو رہاہے، سائبرمجرم اور منظم جعلساز گروہ بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، دنیا کے مختلف ممالک بچوں کے ذہنی دباؤ کو کم کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی یا مخصوص مواد پر بحث کر رہےہیں۔ڈیٹا بیس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کی آبادی تقریباً 10 کروڑ 98 لاکھ ہے جس میں بڑی تعداد موبائل یوزرز کی ہے،پاکستان میں بھی بچوں کے بہتر سوشل میڈیا استعمال کیلئے سکولوں، والدین اور میڈیا کو آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق16 سال سے کم عمر بچوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کیلئے دنیا کے مختلف ممالک میں سوشل میڈیا کے ضابطے اور قوانین بنانے پر غور کیا جا رہا ہے ، سوشل میڈیا سے متعلق سخت قوانین نہ ہونے کے باعث غلط معلومات، افواہیں، نفرت انگیز مواد اورجھوٹا پروپیگنڈا انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے ، بلیو وہیل، مومو چیلنج اور پب جی جیسی ایپلیکیشن کے استعمال کے بعد بچوں کی جانب سے خودکشی کے واقعات بھی سامنے آئے، پاکستان میں بچوں کی آن لائن سر گرمیوں پر مناسب نگرانی کیلئے دنیا بھر کی طرح قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔








