بڑھتی ہوئی آبادی اورروزگارکے مواقع کے درمیان توازن ضروری ہے،روزگار کا وسیع خلا معاشی، سماجی اور قومی سلامتی کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اجے بنگا

اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):عالمی بینک کے صدر اجے بنگانے بڑھتی ہوئی آبادی اورروزگارکے مواقع کے درمیان توازن کے قیام کیلئے اقدامات کی ضرورت پرزوردیاہے،روزگار کا وسیع خلا معاشی، سماجی اور حتیٰ کہ قومی سلامتی کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اپنے ایک حالیہ آرٹیکل میں عالمی بینک کے صدرنے کہاہے کہ آبادی میں اضافہ، عالمگیریت اور پانی و خوراک کی بڑھتی قلت جیسے مسائل خاموشی سے عالمی نظام …

اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):عالمی بینک کے صدر اجے بنگانے بڑھتی ہوئی آبادی اورروزگارکے مواقع کے درمیان توازن کے قیام کیلئے اقدامات کی ضرورت پرزوردیاہے،روزگار کا وسیع خلا معاشی، سماجی اور حتیٰ کہ قومی سلامتی کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اپنے ایک حالیہ آرٹیکل میں عالمی بینک کے صدرنے کہاہے کہ آبادی میں اضافہ، عالمگیریت اور پانی و خوراک کی بڑھتی قلت جیسے مسائل خاموشی سے عالمی نظام کی تشکیل نو کر رہی ہیں ، اصل خطرہ ان سست رفتار تبدیلیوں کو نظرانداز کرنے میں ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئندہ 10 سے 15 سال میں ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 1.2 ارب نوجوان ورک فورس کی عمر کو پہنچ جائیں گے اوریہ تعداد انسانی تاریخ میں بے مثال ہے، موجودہ معاشی رفتار کو مدنظر رکھا جائے تو ان ممالک میں اسی مدت کے دوران صرف تقریباً 40 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہونے کااندازہ ہے ، یوں روزگار کا ایک وسیع خلا پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو معاشی، سماجی اور حتیٰ کہ قومی سلامتی کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے،یہ معاملہ محض ترقیاتی چیلنج نہیں بلکہ معاشی اور بڑھتے ہوئے انداز میں سکیورٹی کا مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ اگر نوجوانوں کو باعزت روزگار نہ ملا تو اداروں پر دبائو، بے قاعدہ ہجرت، سماجی بے چینی اور تنازعات میں اضافے جیسے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عالمی بینک نے روزگار کے فروغ کے لیے تین ستونوں پر مبنی حکمت عملی اختیار کی ہے جس میں عوامی مالیات، نجی سرمایہ، تکنیکی مہارت اور رسک مینجمنٹ کے آلات کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ قابل اعتماد بجلی، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت کے بغیر نہ نجی سرمایہ کاری ممکن ہے اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ واضح قوانین اور پیش گوئی کے قابل ضابطہ کاری سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے بڑے پیمانے پر روزگار کی تخلیق کا انحصار نجی شعبے خصوصاً مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر ہے جو زیادہ تر ملازمتیں فراہم کرتے ہیں۔

عالمی بینک کی شعبہ جاتی ادارے ایکویٹی، فنانسنگ، ضمانتیں اور سیاسی خطرات کا بیمہ فراہم کر رہے ہیں۔ حال ہی میں برازیل کے بینک کے لیے تجارتی مالیات کی ضمانت کے تحت تقریباً 70 کروڑ ڈالر کی کم لاگت فنڈنگ چھوٹے کاروباروں، خصوصاً زرعی شعبے کے لیے دستیاب کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بنیادی ڈھانچہ اور توانائی،زراعت وزرعی کاروبار، بنیادی صحت کی خدمات، سیاحت اور قدر میں اضافے پر مبنی مینوفیکچرنگ ایسے شعبہ جات ہیں جہاں روزگارکے زیادہ مواقع فراہم کئے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 2050تک دنیا کی 85 فیصد سے زائد آبادی ترقی پذیر ممالک میں مقیم ہوگی یہ نہ صرف عالمی افرادی قوت کی سب سے بڑی توسیع بلکہ مستقبل کے صارفین اور منڈیوں کی سب سے بڑی افزائش بھی ہوگی۔ اگر ان ممالک میں بروقت سرمایہ کاری کی جائے تو یہ رجحان عالمی ترقی، تجارت اور استحکام کے لیے ایک طاقتور محرک بن سکتا ہے۔