اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آگاہی پھیلانا ضروری ہے ، آبادی سے وسائل پر دباؤ پڑ رہا ہے ،ہمیں آبادی کے حساب سے وسائل کا استعمال کرنا ہو گا ۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراء ،سینیٹر،بین الاقوامی نمائندوں اور ماہرین نے اسلام آباد میں منعقدہ پاپولیشن سمٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزرا، بین الاقوامی نمائندوں اور ماہرین نے آبادی …
بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے آگاہی پھیلانا ضروری ہے ،ہمیں آبادی کے حساب سے وسائل کا استعمال کرنا ہو گا،مقررین کا پاپولیشن سمٹ میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آگاہی پھیلانا ضروری ہے ، آبادی سے وسائل پر دباؤ پڑ رہا ہے ،ہمیں آبادی کے حساب سے وسائل کا استعمال کرنا ہو گا ۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراء ،سینیٹر،بین الاقوامی نمائندوں اور ماہرین نے اسلام آباد میں منعقدہ پاپولیشن سمٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزرا، بین الاقوامی نمائندوں اور ماہرین نے آبادی میں بے لگام اضافے کو پاکستان کے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیا۔پاپولیشن سمٹ میں آبادی، معیشت، کلائمٹ چینج اور ہیومن ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اہم نکات پر تفصیلی بات ہوئی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کہا کہ پاکستان تاریخ کے اہم ترین ڈیموگرافک پوائنٹ پر کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے،سات اضلاع میں بچوں میں سٹنٹنگ کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ آبادی میں اضافہ پاکستان کے طویل مدتی معاشی استحکام کے لئے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت فیملی پلاننگ اور ہیومن ڈویلپمنٹ کیپٹل پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے سامنے دو بڑے چیلنجز کلائیمٹ چینج اور آبادی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی نشستوں میں بھی انہیں کلائیمٹ اثرات پر گفتگو کرنا پڑتی ہے کیونکہ معیشت براہ راست موسمیاتی بحران سے متاثر ہوتی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مضبوط پالیسی اور اس پر عملدرآمد ہی مسائل کا حل ہے۔برٹش ہائی کمشنر جین میرٹ نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 2.5 فیصد سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے۔
2050 تک ملک کو 6 کروڑ 80 لاکھ نوکریاں پیدا کرنا ہوگی،دو دہائیوں میں ایک لاکھ 50 ہزار نئے سکول درکار ہوں گے۔انہوں نے زور دیا کہ فیملی پلاننگ، خواتین کی صحت اور بہبود کے شعبوں میں تیزی لانا ضروری ہےاور اس کے لئے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔سینیٹر شیری رحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی کا مسئلہ پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی تیز ی سے بڑھ رہی ہے جبکہ پینے کے پانی اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کتنے بچے بھوک اور تعلیم سے محرومی کا شکار ہیں ۔شیری رحمان نے کہا کہ ہر سال ڈیڑھ ملین نئی ملازمتوں کی ضرورت ہے جبکہ آبادی میں اضافہ معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کہا کہ صحت مند شہری صحت مند معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں ،ماں اور بچے کی صحت ہی خاندان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قران مجید میں بچے کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانے کی تلقین کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی اچھی نشوونما اور تربیت والدین کی ذمہ داری ہے ،آبادی اور وسائل میں توازن معاشرے کی اجتماعی فلاح کے لئے ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ آبادی کی روک تھام کے لئے قومی سطح سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک آگاہی کا موثر نظام ہونا چاہئے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مفتی زبیر اشرف عثمانی نے کہا کہ ہمیں آبادی کے حساب سے وسائل کا استعمال کرنا ہوگا ،کثرت آبادی کے شکار ممالک مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ،کم آبادی کے وسائل کے بہتر استعمال کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں زچہ و بچہ کی صحت پر بھرپور توجہ دینا ہوگی ،زچہ و بچہ کی صحت کے پیش نظر شرح پیدائش میں کمی لانا ضروری ہے،ہمیں آنے والی نسلوں کو شعور اور آگاہی فراہم کرنا ہوگی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ علمائے کرام آبادی میں اضافے کے مسئلے پر پاپولیشن کونسل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ،بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آگاہی پھیلانا بہت ضروری ہے ،بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ آبادی کے مسئلے پر علماء مساجد اور منبر سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔








