بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل بند اور کشمیری عوام کے خلاف طاقت کے اندھا دھند استعمال سے باز رہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ 13 جولائی کو 94 واں ’یوم شہدائے کشمیر‘ ان 22 کشمیریوں کی شہادت کی یاد میں منایا جائے گا جنہوں نے 1931ء میں سرینگر میں ڈوگرہ فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم شہداء کی جرات …

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ 13 جولائی کو 94 واں ’یوم شہدائے کشمیر‘ ان 22 کشمیریوں کی شہادت کی یاد میں منایا جائے گا جنہوں نے 1931ء میں سرینگر میں ڈوگرہ فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم شہداء کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور آزادی کے لیے ایک دلیرانہ جدوجہد کو مہمیز دی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ سانحہ سرینگر کے 94 سال گزرنے کے بعد بھی کشمیریوں کی حالت زار نہ ختم ہونے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کو سخت ایمرجنسی اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کسی بھی کشمیری کو قتل کرنے اور کسی بھی املاک کو تباہ کرنے کا استثنیٰ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے کے شروع میں کشمیری نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کی نویں برسی منائی گئی، برہان مظفر وانی ان سینکڑوں کشمیری نوجوانوں میں سے ایک تھے جو ماورائے عدالت قتل ہوئے ۔ ترجمان نے ایک بار پھر بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل بند اور کشمیری عوام کے خلاف طاقت کے اندھا دھند استعمال سے باز رہے۔

مزید خبریں