احمد آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):بھارتی ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں پانچ سال تک سینکڑوں فیصلے کرنے والی جعلی عدالت کا انکشاف ہونے کے بعد اس کے جج کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جعلی عدالت میں نہ صرف جعلی جج، جعلی وکیل اور جعلی اردلی موجود تھے بلکہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت ہوتی تھی اور فیصلےسنائے جاتے …
بھارتی ریاست گجرات میں پانچ سال تک سینکڑوں فیصلے کرنے والی جعلی عدالت کا انکشاف، جج گرفتار

مزید خبریں
احمد آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):بھارتی ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں پانچ سال تک سینکڑوں فیصلے کرنے والی جعلی عدالت کا انکشاف ہونے کے بعد اس کے جج کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جعلی عدالت میں نہ صرف جعلی جج، جعلی وکیل اور جعلی اردلی موجود تھے بلکہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت ہوتی تھی اور فیصلےسنائے جاتے تھے۔
جج گاندھی نگر کے رہائشی 37 سالہ مورس سیموئل کرسچن کے خلاف فرضی ثالثی ٹربیونل چلانے اور 2019 اور 2024 کے درمیان ثالثی کے متعدد احکامات پاس کرنے کے الزامات کے تحت احمدآباد کے سٹی سول کورٹ کے رجسٹرار ہاردک ڈیسائی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق مورس سیموئل کرسچن نے 2019 میں چندا جی ٹھاکر نامی شخص کے حق میں زمین کی ملکیت کے ایک تنازعے سے متعلق فیصلہ سنایا تھا۔یہ کیس احمد آباد کی سول عدالت میں عملدرآمد کے لیے پیش کیا گیا تو عدالتی حکام نے اس کیس کے ساتھ لف دستاویزات کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور پولیس میں شکایت کی گئی جس کی بنیاد پر یہ جعلی عدالت کا بھانڈا پھوٹ گیا۔
پولیس کے مطابق مورس سیموئل کرسچن مبینہ طور پر گزشتہ کئی برسوں سے اُن لوگوں کو نشانہ بنا رہا تھا جن کے زمین کی ملکیت سے متعلق تنازعات سول کورٹ میں زیر التوا تھے۔وہ مقدمات کے مدعیان سے فیس وصول کر تا تھا اور اس نے اپنا دفتر کمرہ عدالت کے مشابہ بنا رکھا تھا۔اس کے ساتھی عدالتی عملے یا وکیل کے طور پر اُس کے سامنے پیش ہوتے اور وہ جج بن کر ثالثی پر مبنی جھوٹے احکامات جاری کرتا ۔ پولیس کے مطابق جھوٹی عدالتی کارروائیوں کے ذریعے وہ مبینہ طور پر قیمتی سرکاری اراضی کی ملکیت کے فیصلے نجی افراد کو منتقل کرنے کے دعوے تیار کرواتا اور اس ضمن میں فیصلے سناتا تھا۔جعلی جج نے بعض اوقات سرکاری افسران اور کلکٹر تک کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے سے متعلق نوٹس بھیجے۔
واضح رہے کہ 2015 میں عدالتوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی ثالثی عدالتیں قائم کی تھیں جن کے تحت فریقین کی منظوری سے مقدمات کے حل کے لیے ثالث اور مصالحت کار مقرر کئے جاتے ہیں۔ مورس سیموئل کرسچن نے اس موقع پر کہیں سے ثالث کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا اور اپنی جعلی عدالت شروع کر دی ۔ اس نے گاندھی نگر کے سیکٹر 21 میں عدالت شروع کی تاہم ایک متنازع فیصلے کے بعد شکایت کے اندراج کے بعد وہ راتوں رات اپنی عدالت بند کر کے گاندھی نگر کے سیکٹر 24 میں منتقل ہو گئے اور وہاں دوبارہ مقدمات کی سماعت شروع کر دی۔سٹی سول کورٹ کے مطابق مورس سیموئل کرسچن نے متنازع اراضی کے مقدمات میں ایک سال میں 500 فیصلے سنائے ۔








