اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی ہندو برادری کے 11 ارکان کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرے اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنائے۔ پیر کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کو لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ منی پور میں بھارتی …
بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں پاکستانی ہندو برادری کے 11 ارکان کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کی جائیں، وفاقی وزیر انسانی حقوق کا اقوام متحدہ کو خط

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی ہندو برادری کے 11 ارکان کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرے اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنائے۔ پیر کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کو لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ منی پور میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کی تاحال تحقیقات نہیں ہو سکیں جو ویانا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے، بھارتی ریاست کی جانب سے خلاف ورزی کی فوری، مکمل اور موثر تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2019ءمیں اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے اس قتل و غارت گری کی تحقیقات کیلئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ وفاقی وزیر نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا اور بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستانی ہندو برادری کے ارکان کے ماورائے عدالت قتل کے معاملہ میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اجازت دے۔ اپنے خط میں انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی معیار کے مطابق ہلاک شدگان کی نعشیں اہل خانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث اہلکاروں کو حاصل استثنیٰ ختم کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کے قوانین کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے بھارت پر دباﺅ ڈالنا چاہئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چونکہ یہ واقعہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں آتا ہے جو ریاستی سطح پر انجام دی جا رہی ہیں، لہذا یہ ضروری ہے کہ احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انصاف، احتساب اور بھارتی فورسز کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کے کلچر کے خاتمہ کیلئے تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کی اجتماعی کوششوں کو یقینی بنانے کی ضرورت سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2020ءمیں بھارت کی ریاست راجستھان کے ضلع جودھ پور میں 11 پاکستانیوں کے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں رپورٹ منظر عام پر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ان ہلاکتوں کے بارے میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ساتھ معلومات کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تشویشناک واقعہ کی تحقیقات نہیں کی گئیں اور نہ ہی پاکستانی ہائی کمیشن یا لواحقین کو نعشوں تک رسائی دی گئی۔ یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قونصلر ریلیشنز کے بارے میں ویانا کنونشن کے سلسلے میں بھی بھارت کی طرف سے خلاف ورزی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بدھو رام (80 سال)، راویہ (35 سال)، شمون (25 سال)، انتاری (75 سال)، شری متی لکشمی (39 سال)، شری متی دیوی (28 سال) اور پانچ بچے جن میں مکدس (16 سال)، زین (12 سال)، دایال (12 سال)، دانش (10 سال) اور دیا (5 سال) شامل ہیں۔ زندہ بچ جانے والی شری متی نے اپنے فیملی ممبران کے قتل کے خلاف ایف آئی آر نمبر 219/2020 درج کروائی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی (را) اس قتل میں ملوث ہے۔








