وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت فعال نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔

لاہور۔22اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت فعال نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔ ہفتہ کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت کے عدم فعال یا عدم دستیاب ہونے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے حقائق کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق اور ذمہ داری کا تعین اور اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے۔ کمیٹی کے چیئرمین، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہوں گے، جبکہ دیگر ممبران میں سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن، اے ایف آئی سی سے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی ، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات( پمز) اور مسٹر عمر فاروق ( سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن، اے ایف آئی سی) شامل ہوں گے۔

کمیٹی ضرورت کے مطابق کسی دیگر رکن کو بھی شامل کر سکے گی اور اس امر کا جائزہ لے گی کہ پمز میں 2022ء سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی تکنیکی صلاحیت موجود تھی اور اگر تھی تو اس کے لیے مطلوبہ تکنیکی سہولیات، انسانی وسائل اور سافٹ ویئر وغیرہ کس حد تک دستیاب تھے۔ کمیٹی 2022ء سے اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے طریقہ کار، ان کی تعداد، تاریخوں اور طریقہ کار کی نوعیت کا بھی جائزہ لے گی جبکہ متعلقہ ہسپتال کے ریکارڈ سمیت تمام متعلقہ دستاویزی شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹی کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کے لیے کسی باقاعدہ ریفرل میکنزم، باہمی رابطے اور انتظامیہ کے کردار کا بھی جائزہ لے گی۔

کمیٹی یہ بھی جائزہ لے گی کہ آیا کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے مریضوں کو معمول کے طور پر سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیے نجی طبی مراکز ریفر کیا جاتا رہا اور اگر ایسا ہوا تو کسی مخصوص نجی ادارے کو ترجیح دی گئی اور اس کے نتیجے میں سرکاری ہسپتال سے کتنے مالیاتی کاروبار کا رخ نجی مراکز کی جانب موڑا گیا۔کمیٹی پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان کسی بھی قسم کی عدم رابطہ کاری، بدانتظامی یا غلط فہمی اور اس کے نتیجے میں عوامی مفاد کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لے گی اور ذمہ دار افسران یا دفاتر کا تعین کرے گی۔کمیٹی معاملے سے متعلق کسی بھی دیگر پہلو کا بھی جائزہ لے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ کمیٹی تمام متعلقہ حقائق اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ معاملے میں مزید کارروائی قانون اور قواعد کے مطابق عمل میں لائی جا سکے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کمیٹی کو انکوائری کے دوران معاونت فراہم کرے گا