بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین بے گناہ شہری شدید زخمی ہو ئے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے 28 جولائی کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے رکھ چکری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین بے گناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ بدھ کو …

اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے 28 جولائی کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے رکھ چکری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین بے گناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ بھارتی سفارتکار کو بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ اسٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 1823مرتبہ جنگ بندی کی بلا اشتعال خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 14 بے گناہ شہر ی شہید اور138 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003ءکے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔