بھارتی میڈیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایٹمی تجربات سے متعلق بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے ،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایٹمی تجربات سے متعلق بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے اور حقائق کو غلط انداز میں پیش کر کے گمراہ کن مہم چلا رہا ہے۔ امریکی حکام پہلے ہی صدر ٹرمپ کے بیان کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر چکے ہیں۔جمعہ کو دفتر کے ترجمان …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایٹمی تجربات سے متعلق بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے اور حقائق کو غلط انداز میں پیش کر کے گمراہ کن مہم چلا رہا ہے۔ امریکی حکام پہلے ہی صدر ٹرمپ کے بیان کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر چکے ہیں۔جمعہ کو دفتر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے آخری ایٹمی تجربات مئی 1998 میں ہوئے تھے اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اُن قراردادوں کی حمایت کرتا رہا ہے جن کا مقصد ایٹمی تجربات پر جامع پابندی عائد کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ان قراردادوں پر ووٹنگ میں بارہا غیر حاضری اس کے غیر واضح اور مشکوک ارادوں کو ظاہر کرتی ہے جو مستقبل میں ممکنہ ایٹمی تجربات سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے تحت کام کرتا ہے، جامع ایکسپورٹ کنٹرولز رکھتا ہے اور عالمی عدمِ پھیلاؤ کے اصولوں پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔’’خفیہ یا غیر قانونی ایٹمی سرگرمیوں‘‘ کے الزامات بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں اور بھارت کی اُس گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد اپنی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا ایٹمی تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے ریکارڈ انتہائی تشویشناک ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران حساس ایٹمی مواد اور شعاعی (ریڈیواکٹیو) مادوں کی چوری اور غیر قانونی اسمگلنگ کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن سے بھارت کی اپنی تنصیبات کے تحفظ میں سنگین کمزوریاں بے نقاب ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھی بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز (BARC) کا ریڈیواکٹیو سامان اور ’’کیلی فورنیم‘‘ نامی انتہائی تابکار مادہ جس کی مالیت 10 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد تھی ، بھارت میں فروخت کے لیے دستیاب پایا گیا۔

انہوں کہا کہ ایسے بار بار پیش آنے والے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں حساس اور دوہری نوعیت کے ایٹمی مواد کے لیے ایک سرگرم بلیک مارکیٹ موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو ان خطرناک سکیورٹی خلاؤں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ علاقائی اور عالمی سلامتی دونوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔