بھارتی ناظم الاامور گوروف آہلووالا کی دفتر خارجہ طلبی، سکھ برادری سے متعلق بھارت کی جانب سے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 7 جنوری (اے پی پی) بھارتی ناظم الاامور گوروف آہلووالا کو دفتر خارجہ طلب کر کے سکھ برادری سے متعلق بھارت کی جانب سے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور ان پر زور دیا کہ بھارت دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے اپنے اقلیتوں اور انکے مقدس مقامات کے موثر تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق …

اسلام آباد ۔ 7 جنوری (اے پی پی) بھارتی ناظم الاامور گوروف آہلووالا کو دفتر خارجہ طلب کر کے سکھ برادری سے متعلق بھارت کی جانب سے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور ان پر زور دیا کہ بھارت دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے اپنے اقلیتوں اور انکے مقدس مقامات کے موثر تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل(جنوبی ایشیاءو سارک)زاہد حفیظ چوہدری نے منگل کو بھارتی ناظم الامور آہلو والا کو دفتر خارجہ طلب کیا اور سکھ برادری سے متعلق بھارت کی جانب سے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کو سختی سے مسترد کیا ۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستان گوردوارہ ننکانہ صاحب میں”حملے“،”توڑ پھوڑ “ اور ”بے حرمتی“ اور پشاور میں سکھ نوجوان کی ”ٹارگٹ کلنگ“کے حوالے سے بھارتی حکومت کے مذموم مقاصد کے تحت شر انگیز الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، جو مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ریاستی دہشت گردی سے عالمی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے اور کسی بھی غیر امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ڈی جی نے بھارتی ناظم الامور پر زور دیا کہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے بھارت کو اپنے اقلیتوں اور انکے مقدس مقامات کے موثر تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دینا چاہیئے۔