بھارت اقلیتوں کوفرقہ ورانہ تشدد اور امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے،بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور کتابوں کی اشاعت یا تقسیم پر پابندی عائد کررکھی ہے،امریکی سرکاری رپورٹ

واشنگٹن،سرینگر،مظفرآباد(12مارچ اے پی پی) امریکی وزارت خارجہ کی ایک جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعدسیاسی رہنماو¿ں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتارکیا، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کیں اور کشمیریوںکی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی۔رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق اقدامات کے بارے میں 2019 کی مختلف ملکوں …

واشنگٹن،سرینگر،مظفرآباد(12مارچ اے پی پی) امریکی وزارت خارجہ کی ایک جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعدسیاسی رہنماو¿ں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتارکیا، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کیں اور کشمیریوںکی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی۔رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق اقدامات کے بارے میں 2019 کی مختلف ملکوں کے بارے رپورٹس میں بھارت کے بارے میں ایک باب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت مذہب اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر اقلیتوں کوفرقہ ورانہ تشدد اور امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے۔ امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور کتابوں کی اشاعت یا تقسیم پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ ایک سال کے دوران پریس کی آزادی میں کمی واقع ہوئی۔ امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام نے مقبوضہ کشمیر میں غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کے دورے اور سرگرمیوں پر پابندی لگادی۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے بارے میں انسانی حقوق کے اہم امور کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں غیر قانونی ہلاکتیں شامل ہیں ، جن میں پولیس کی جانب سے ہونے والے غیر عدالتی قتل بھی شامل ہیں۔ امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر ملکی ماہرین اور دانشوروں پر مقبوضہ کشمیر جانے اور وہاں انکی سرگرمیوںپر بھی پابندی عائد کر دی ۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی پامالیوںکی نشاندہی کی گئی ہے جن میں پولیس کی طرف سے ماورائے عدالت قتل ، قید خانوںمیں ظلم و تشدد ، جبری گرفتاریاں اور نظربندی شامل ہیں۔ رپورٹ میںوزارت خارجہ نے بعض ریاستوں میں سیاسی نظربندوں ، صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں، ان پر تشدد یا انکے خلاف مقدمات ، سنسر شپ،سوشل میڈیا اورویب سائٹ بلاک کرنے سمیت آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں حکومت کی ہر سطح پر سرکاری بدانتظامی کے لئے جواب دہی کا فقدان ہے ۔میڈیا سے بات چیت میں پومپیو نے چین ، ایران ، وینزویلا اور کیوبا جیسے ممالک میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔