بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا، چیئرمین سیڈا

حیدرآباد۔ 22 فروری (اے پی پی):چیئرمین سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی قبول محمد کھٹیان نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے سے ممکنہ انخلا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں سے یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مؤثر اور …

حیدرآباد۔ 22 فروری (اے پی پی):چیئرمین سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی قبول محمد کھٹیان نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے سے ممکنہ انخلا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں سے یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مؤثر اور پیش گوئی کے قابل انتظام کے لیے بنیادی فریم ورک فراہم کرتا رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ یا کسی قسم کی مداخلت، خاص طور پر کم بہاؤ والے مہینوں میں، سندھ میں کھیتوں کی آبپاشی، پینے کے پانی اور ہائیڈرو پاور کے شعبے میں شدید کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کم یا دیر سے فراہمی فصلوں کو شدیدمتاثر کرے گی، گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار کم کرے گی۔

چیئرمین سیڈا نے کہا کہ کوٹری بیراج کے نیچے کم پانی سمندری پانی کے داخلے کو تیز کرتا ہے، ڈیلٹا کو نقصان پہنچاتا ہے، آبادگاروں اور ماہی گیری کے وسائل متاثر ہوتے ہیں اور تھر، سجاول، بدین اور قریبی علاقوں کے رہائشیوں کے روزگار اور پینے کے پانی کے ذرائع خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت پاکستان کے مغربی دریاؤں سندھ، جہلم، چناب پر حقوق کو بھارت یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں اور معاہدے کے ضامن سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رہے۔