بھارت کو سکیورٹی خدشات کے باوجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی، اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا انتباہ

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے جموں و کشمیر میں بھارت کی سفاکیت اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ بھارت کو سکیورٹی خدشات کے باوجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ قابض مودی سمیت تمام بھارتی حکومتوں کے سفاکانہ دور جموں وکشمیر کی وادی کےلئے سیاہ باب رہے ہیں ، جابر مودی کی …

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے جموں و کشمیر میں بھارت کی سفاکیت اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ بھارت کو سکیورٹی خدشات کے باوجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ قابض مودی سمیت تمام بھارتی حکومتوں کے سفاکانہ دور جموں وکشمیر کی وادی کےلئے سیاہ باب رہے ہیں ، جابر مودی کی مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کے ماہرین بھی بول اٹھے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق پہلگام حملہ کے بعد بھارتی حکام کی جموں و کشمیرمیں کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید خدشات ہیں ، بھارت کو سکیورٹی خدشات کے باوجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ بھارتی انتہا پسند کارروائیوں میں صحافی اور انسانی حقوق کے محافظ سمیت تقریباً 2,800 افراد کو گرفتار اور حراست میں لیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ ہم بھارت کی جانب سےگرفتاریوں، مشتبہ ہلاکتوں، تشدداور کشمیری و مسلم کمیونٹی کے خلاف امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہیں۔

ماہرین نے رابطوں کی بندش اور صحافتی آزادی پر قدغنوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و ہراسانی، انہدامات اور 1,900 افراد کی غیر قانونی ملک بدری عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، متعدد انسانی حقوق کے محافظ سالوں سے سکیورٹی قوانین کے تحت بلا جواز نظربند ہیں، بھارتی انسدادِ دہشت گردی اقدامات آئین و قانون کی خلاف ورزی اور سماجی تقسیم و تشدد کا باعث بنتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تشویش مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم اور مودی کے ظلم و بربریت کی عکاس ہے، بھارتی ظلم و جبر کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد، آزادی کا سورج طلوع ہونے تک جاری رہےگی۔

مزید خبریں