بھارت کی جانب سے اپنی بندرگاہیں امریکہ کے حوالے کر نا ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے ، دفاعی تجزیہ کار

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):امریکی فوج کے سابق کرنل ڈگلس میک گریگر) جو سیکرٹری دفاع کے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں( نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی بحریہ جہازوں کی لنگر اندازی اور سامان اتارنے کی کارروائیوں کے لیے تیزی سے بھارتی بندرگاہوں پر انحصار کر رہی ہے۔میک گریگر ون امریکہ نیوز کو د یئے گئے حالیہ …

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):امریکی فوج کے سابق کرنل ڈگلس میک گریگر) جو سیکرٹری دفاع کے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں( نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی بحریہ جہازوں کی لنگر اندازی اور سامان اتارنے کی کارروائیوں کے لیے تیزی سے بھارتی بندرگاہوں پر انحصار کر رہی ہے۔میک گریگر ون امریکہ نیوز کو د یئے گئے حالیہ انٹرویو نے خصوصاً جنوبی ایشیا میں سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ اپنی عسکری لاجسٹکس روایتی خلیجی اڈوں سے ہٹا کر متبادل مقامات کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔میک گریگر کے مطابق خلیج میں امریکی تنصیبات کو لاحق خطرات نے امریکہ کو بھارتی سہولیات کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا ہے، اور یہ اقدام ایران سے متعلق ممکنہ تنازعات سمیت وسیع امریکی آپریشنز کا حصہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان سرکاری دفاعی تعاون، جو کواڈ لیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ (Quadrilateral Security Dialogue) جیسے فریم ورک کے ذریعے مضبوط ہوا ہے، براہِ راست مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں شمولیت کے بجائے ہند-بحرالکاہل خطے میں بحری سلامتی پر مرکوز ہے۔اس تعاون کی مثالوں میں امریکی بحری جہازوں کے دورے شامل ہیں، جیسے 2022 اور 2023 میں یو ایس این ایس چارلس ڈریو کا چنئی کے قریب تنصیبات کا دورہ، اور اگست 2025 میں یو ایس ایس فرینک کیبل کی بندرگاہ پر آمد۔ یہ سرگرمیاں ماسٹر شپ ریپیئر معاہدوں کے تحت بھارتی کمپنیوں، مثلاً لارسن اینڈ ٹوبرو، کے ساتھ کی جاتی ہیں، جس کے ذریعے معمول کی مرمت اور اوورہال ممکن ہوتا ہے۔دونوں حکومتیں ان اقدامات کو اعتماد سازی اور باہمی آپریشنل ہم آہنگی بڑھانے کے لیے اہم قرار دیتی ہیں، جس میں مشترکہ مشقوں اور معلومات کے تبادلے پر زور دیا جاتا ہے۔بھارت کی خارجہ پالیسی تزویراتی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ، روس اور ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے پر مبنی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نئی دہلی مغربی پابندیوں کے باوجود چاہ بہار بندرگاہ جیسے منصوبوں پر تہران کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارتی حکام نے میک گریگر کے دعوؤں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ ماہرین معمول کے بندرگاہی دوروں اور مخصوص آپریشنز کے لیے مستقل اگلے مورچوں کے قیام میں فرق کرتے ہیں۔علاقائی تناظر میں اس پیش رفت نے جنوبی ایشیا میں استحکام سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ پاکستان، جو بھارت اور ایران دونوں کے ساتھ سرحد رکھتا ہے اور تہران کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتا ہے، ایسی صف بندیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔پاکستانی تزویراتی ماہرین خطے کو بیرونی تنازعات میں الجھنے سے بچانے کے لیے عدم وابستگی کے اصولوں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور سفارتی حل کی وکالت کرتے ہیں جو کشیدگی میں کمی اور ہمسایہ ممالک کے باہمی مفادات کو ترجیح دے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی لاجسٹک تنوع، جس میں ممکنہ طور پر بھارتی صلاحیتوں کا استعمال بھی شامل ہے، ان علاقوں میں خطرات کم کرنے کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے جو غیر مستحکم سمجھے جاتے ہیں، جیسے بحیرہ احمر اور خلیج عدن، جہاں جہاز رانی میں خلل پہلے ہی عالمی راستوں کو متاثر کر چکا ہے۔روایتی امریکی مراکز، جیسے بحرین، ڈیگو گارشیا، عمان اور متحدہ عرب امارات، اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں آپریشنز کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔