اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):بھارت کے تجارتی معاہدے پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی نہیں بلکہ بہتر تیاری کا پیغام ہیں، بدلتی دنیا میں مسابقت ہی اصل طاقت ہے، عالمی تجارت اب روایتی معاشی اصولوں کے بجائے سیاسی فیصلوں اور غیر یقینی حالات کے تحت چل رہی ہے ۔ یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی( ایس ڈی پی آئی)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے ایک نجی چینل …
بھارت کے تجارتی معاہدوں سے پاکستانی برآمدات کو فوری خطرہ نہیں، عالمی تجارت اب روایتی معاشی اصولوں کے بجائے سیاسی فیصلوں اور غیر یقینی حالات کے تحت چل رہی ہے، ڈاکٹر عابد قیوم سلہری
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):بھارت کے تجارتی معاہدے پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی نہیں بلکہ بہتر تیاری کا پیغام ہیں، بدلتی دنیا میں مسابقت ہی اصل طاقت ہے، عالمی تجارت اب روایتی معاشی اصولوں کے بجائے سیاسی فیصلوں اور غیر یقینی حالات کے تحت چل رہی ہے ۔ یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی( ایس ڈی پی آئی)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے ایک نجی چینل کو انٹر ویو میں کہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اب روایتی معاشی اصولوں کے بجائے سیاسی فیصلوں اور غیر یقینی حالات کے تحت چل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ٹیرف، قواعد اور مارکیٹ تک رسائی میں اچانک تبدیلیاں اب معمول بنتی جا رہی ہیں جس کے باعث ممالک دوطرفہ اور ترجیحی معاہدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے اسی عالمی رجحان کا حصہ ہیں ۔ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ بھارت بڑے پیمانے پر اور متنوع برآمدات کرتا ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات محدود شعبوں تک مرکوز ہیں۔ 2024ء میں یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی تجارت تقریباً 120 ارب یورو رہی جبکہ پاکستان کے ساتھ یہ حجم تقریباً 12 ارب یورو تھا۔
امریکہ نے بھارت سے 87 ارب ڈالر سے زائد اور پاکستان سے تقریباً 5 ارب ڈالر کی درآمدات کیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے کے نفاذ کی صورت میں پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس سکیم کے تحت ڈیوٹی فری رسائی میں کمی آ سکتی ہے جس سے قیمت، معیار اور بروقت ترسیل کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے۔ 2027ء کے بعد جی ایس پی پلس کی توسیع پاکستان کے لئے نہایت اہم ہے اور اسے ایک معاشی ترجیح کے طور پر لیا جانا چاہئے۔
برطانیہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی ترجیحی تجارتی سہولت حاصل کر رہا ہے اس لئے فوری نقصان کا امکان نہیں۔امریکہ اور بھارت کے ممکنہ تجارتی انتظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کئی باتیں تاحال غیر مصدقہ ہیں اور پاکستان کو وقتی اعلانات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ روپے کی قدر میں کمی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سلہری نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کوئی حل نہیں کیونکہ اس سے درآمدی خام مال مہنگا ہو جاتا ہے اورخریدار قیمت کے ساتھ ساتھ معیار، اعتماد اور بروقت سپلائی کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یورپ اور برطانیہ میں ٹیکسٹائل اور ہوم ٹیکسٹائل کے شعبوں میں اپنی مسابقت بہتر بنانے کےلئے معیار، ویلیو ایڈیشن، ڈیزائن اور تجارتی سہولت کاری پر توجہ دینا ہوگی۔ڈاکٹرعابد قیوم سلہری نے کہا کہ برآمدات میں تنوع وقت کی اہم ضرورت ہے اور خلیجی ممالک، مشرقی افریقہ اور ایشیا کی نئی منڈیوں کی طرف قدم بڑھا کر پاکستان خطرات کو کم کر سکتا ہے۔









