وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر پوری امت مسلمہ، بالخصوص اہل پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت و سعادت کا باعث ہے
خاتم النبیینﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے رحمت و سعادت کا باعث ہے،وزیراعلی خیبر پختونخوا

مزید خبریں
پشاور۔ 26 اگست (اے پی پی):وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر پوری امت مسلمہ، بالخصوص اہل پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت و سعادت کا باعث ہے۔ آپﷺ کی سیرت طیبہ اور آفاقی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا کامل سرچشمہ ہیں، جبکہ آپﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا اور آپﷺ کا اسوہ حسنہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ دکھانے والا مشعلِ راہ ہے۔عید میلادالنبیﷺ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ رحمت ا للعالمینﷺ نے انسانیت کو تکریم، عفو و درگزر، عدل و انصاف، مساوات اور ظلم کے خاتمے کا درس دیا۔ خطبہ حجۃ الوداع انسانی حقوق، مساوات اور تکریمِ انسانیت کا ایسا جامع منشور ہے جو رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ رہے گا۔آپﷺ نے رنگ، نسل، نسب اور حیثیت کے امتیاز کو ختم کرتے ہوئے انسانی وقار اور مساوی حقوق کو معاشرتی زندگی کی بنیاد بنایا۔ آج امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اور اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی اسی صورت ممکن ہے جب ہم سیرتِ نبویﷺ کی آفاقی تعلیمات کو محض عقیدت تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ریاست مدینہ کے سنہرے اصول ہمارے لیے ایک ایسا عملی نمونہ ہیں جن کی روشنی میں ایک مضبوط، پرامن، ترقی یافتہ اور اسلامی فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ سیرتِ طیبہﷺ ہمیں واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ اسلامی ریاست کی بنیاد شہریوں کے درمیان مساوات، عدل و انصاف اور تکریمِ انسانیت کے تحفظ پر قائم ہوتی ہے۔ اسلامی ریاست میں ہر شہری کو بلاامتیاز یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں، قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے اور کسی فرد یا طبقے کو محض حیثیت، طاقت یا منصب کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔ رسول اکرمﷺ نے مدینہ منورہ میں ایسا معاشرہ قائم فرمایا جس میں حقوق و فرائض کی ادائیگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، کمزوروں اور محروموں کا تحفظ اور ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ریاستی نظام کے بنیادی اصول قرار پائے۔ اسلامی فلاحی ریاست کا حقیقی مقصد بھی یہی ہے کہ عدل کو معاشرے کی بنیاد بنایا جائے، ہر شہری کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، وسائل پر چند طبقات کی اجارہ داری کا خاتمہ ہو اور کسی فرد پر ظلم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیرتِ نبویﷺ کی روشنی میں ایک مضبوط اور پُرامن ریاست وہی ہے جہاں قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کا تحفظ بلاامتیاز یقینی بنایا جائے۔ عید میلادالنبیﷺ کے اس بابرکت موقع پر بحیثیت مسلمان ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا چاہیے کہ ہم اسوہ حسنہﷺ کی روشنی میں اپنے کردار و عمل کی اصلاح کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کے فروغ، قانون کی بالادستی اور ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے اپناکردار ادا کریں گے۔







