اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام سیمینار کے شرکاء نے قراردیا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول ہیں،عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس کانوٹس لینا چاہئے،کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار اقوام متحدہ نے دیا ہے،بھارت طاقت کے زور پر انہیں دبا نہیں سکتا۔منگل کوفرینڈز …
بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول ہیں،عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس کانوٹس لینا چاہئے، فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام سیمینار سے شرکاء کا خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام سیمینار کے شرکاء نے قراردیا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول ہیں،عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس کانوٹس لینا چاہئے،کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار اقوام متحدہ نے دیا ہے،بھارت طاقت کے زور پر انہیں دبا نہیں سکتا۔منگل کوفرینڈز آف کشمیر کے زیرِ اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر وسفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے فرینڈز آف کشمیر ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے حوالے سے دستاویزات میں اہم کردار ادا کیا،وڈروولسن کے اعلان کے بعد انسانی حقوق کی بحث نے جنم لیا،انسانی حقوق کے حوالے سے پہلا چارٹر حضرت محمدؐ کے دور میں لکھا گیا،اگر اقوام متحدہ کا چارٹر موجود نہ بھی ہو تو تب بھی ہمارے پاس ایک لائحہ عمل موجود ہے،اہل کشمیر کا پہلا حق ریاست کا ہے،کشمیریوں نے جدوجہد کا آغاز 1931 میں کیا تھا،کشمیریوں کا حق چالبازیوں اور بین الاقوامی سیاست کے ذریعے روکا گیا،کشمیر کی اکثریت نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں،اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے ہی پاداش میں کشمیریوں کو شہید کیا گیا،پانچ لاکھ کے قریب کشمیری قربانیاں دے چکے ہیں
،اہل جموں و کشمیر کے حقوق کو کچلا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019 سے لے کر مئی 2025 تک تذبذب کی صورتحال تھی،ایک طبقہ اہل کشمیر اور پاکستان کو ڈرا رہا تھا کہ ہندوستان بڑی عسکری طاقت ہے،ایک تیسری سوچ یہ بھی ہے کہ کشمیر کو خودمختار رکھا جائے ،کشمیریوں کی صفوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی،معرکہ حق کے بعد پاکستان اور اہل جموں و کشمیر کا اعتماد ایک بار پھر بحال ہوا۔سردار مسعود خان نے کہا کہ راویتی جنگ میں پاکستان نے ہندوستان کو شکست دی،معاشی اور سفارتی محاذ پر بھی پاکستان نے کامیابی حاصل کی،پاکستان کو دنیا میں مرکزی ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے محاذ پر بھی پاکستان نے کامیابی حاصل کی،بھارت دنیا کو جھوٹ دکھا رہا تھا،اب ہمیں بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،کشمیر کے سلسلے میں ایک مایوسی کا بیانیہ تھا جس کی تکرار جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان ہندوستان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنگ بندی قبول کی،صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہئے،مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیرجنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔پیپلز پارٹی کے رہنماء سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام کشمیری مجاہدین کو سلام پیش کرتا ہوں
، یٰسین ملک اور مسرت بٹ سمیت تمام کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں،کشمیریوں کاز انتہائی مقدس ہے،پانچ اگست 2019 کے بعد پورا کشمیر کنٹونمنٹ بن گیا ہے،دنیا کو بتانا چاہئے کہ کشمیر ایک جیل بن چکا ہے،آج کے دن یٰسین ملک کے لئے آواز اٹھانی چاہئے ،یٰسین ملک کی رہائی کے لئے مربوط کوشش ہونی چاہئے ،کشمیری ڈائسپورہ بیرون ممالک کے پارلیمنٹ کے ارکان کوخطوط لکھے کے ان کی حکومتیں انڈیا پر دباؤ ڈالیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پوری ریاست کا 45فیصد ہے،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آئین پاکستان نافذ نہیں ہے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹی کو مضبوط کرنا چاہئے،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو با اختیار بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے لئے بھی آواز اٹھانا ہوگی،مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ہمیں کوئی نئی بات تلاش کرنی چاہئے،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔سینئر حریت رہنما فاروق رحمانی نے کہا کہ 1948 کے بعد اب تک انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں،نوجوان بہت ولولے سے کشمیر کاز پر کام کر رہے ہیں،مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے نوجوان اقدامات کر رہے ہیں،کشمیر ہو یا فلسطین ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے پوری دنیا میں تقریبات اور سیمینار کا انعقاد ہوتا ہے،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے آواز اٹھائی جاتی ہےمگر اس طرح کے عالمی بظاہر صرف ایک رسم ہے، مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کا مقصد مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنا اور کشمیریوں کو ہندوستان کے ظلم سے آزاد کرانا ہے،جیل میں قید کشمیریوں کی کوئی شنوائی نہیں،ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ انسانی حقوق، کشمیریوں کے حق خودارادیت اور تحریک آزادی کشمیر کی بات کرتے ہیں۔
مسلم کانفرنس کے رہنما عثمان عتیق نے کہا کہ ابھی جب پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جا رہا تھاتو آج کل کے بچوں کو ترانہ نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں ایک نسل آج بھی موجود ہے جنہیں پاکستان کا قومی ترانہ یاد ہے،پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ کشمیریوں کے لئے اذیت کا باعث بن جاتا ہے،ان کے چہروں کے تاثرات دیکھ کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،فاروق رحمانی پاکستان اس امید سے آئے کہ ہم واپس پاکستانی فوج کے ساتھ مقبوصہ کشمیر میں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ سے چھ لاکھ کشمیریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں،چند ہزار حریت پسند کشمیریوں نے آزادی کی تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے،وادی کے کشمیری اپنے جذبے پر بھارتی فوجیوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی میں کشمیریوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے،کشمیر ہمارے عقیدے اور ایمان کا حصہ ہے،امید ہے کہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔سیمینارسے حریت رہنماء عبدالحمید لون اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔








