بھارت کے ساتھ پاکستان کا بنیادی تنازعہ کشمیر ہے اس پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی، دفتر خارجہ کی ترجمان ڈاکٹر عائشہ اور کشمیر سیل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل چوہدری کی کشمیر جرنلسٹس فورم اور اے کے این ایس کے نمائندہ وفد کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا بنیادی تنازعہ کشمیر ہے، اس پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی، 1971ءکے بعد سکیورٹی کونسل میں کشمیر کا ذکر تک نہیں ہوا تھا لیکن پانچ اگست کے فیصلے کے بعد یہ مسئلہ وہاں زیر بحث آیا‘ وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں …

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا بنیادی تنازعہ کشمیر ہے، اس پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی، 1971ءکے بعد سکیورٹی کونسل میں کشمیر کا ذکر تک نہیں ہوا تھا لیکن پانچ اگست کے فیصلے کے بعد یہ مسئلہ وہاں زیر بحث آیا‘ وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے کے بعد دنیا بھر کی پارلیمان اور حکومتی سطح پر اس مسئلے پر آواز اٹھائی گئی ہے جوکہ بڑی کامیابی ہے‘ کشمیر کا مسئلہ اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے جوکہ بھارت کے اس دعوے کی نفی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ ہے۔ پیر کو دفتر خارجہ میں قائم کشمیر سیل میں کشمیر جرنلسٹس فورم اور اے کے این ایس کے نمائندہ وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان ڈاکٹر عائشہ اور سیل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل چوہدری نے کہا کہ 1971ءکے بعد سکیورٹی کونسل میں کشمیر کا ذکر تک نہیں ہوا تھا لیکن پانچ اگست کے فیصلے کے بعد یہ مسئلہ وہاں زیر بحث آیا اور بھارت کے اس دعوے کی قلعی کھل گئی کہ کشمیر دو طرفہ مسئلہ ہے بلکہ یہ ثابت ہوا کہ کشمیر عالمی مسئلہ ہے، لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کی وجہ سے آزاد کشمیر کے لوگ بھی اس سے براہ راست متاثر ہیں، وزیراعظم کی یہ واضح ہدایت ہے کہ مرکزی سطح پر اس مسئلہ کو ہمیں قومی دھارے میں لانا ہے، سارے مشنز 25 جنوری سے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں بیرون ممالک تقاریب منعقد کر رہے ہیں، پارلیمان کی سطح پر اب کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آرہا ہے، 83 امریکی کانگریس ممبران اس مسئلہ پر لب کشائی کر چکے ہیں۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ ‘ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ آیا۔ بھارت کے نہ چاہتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ انٹرنیشنلائز ہو چکا ہے۔ عالمی میڈیا میں ہندوستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے ہر عالمی فورم پر بھرپور انداز میں مسئلہ کشمیر اٹھایا۔ کشمیر پاکستان کے لئے کور ایشو ہے۔ کشمیر پر 72 سال میں چھ جنگیں لڑی گئیں۔ یہ سوال آتا ہے کہ کشمیر پر سودے بازی ہو رہی ہے، بھارت سے کشمیر کے علاوہ پاکستان کی اور کیا لڑائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیریوں نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ میں اس مسئلہ پر بات ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے سات سے آٹھ بار اس مسئلہ کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک میں اس پر بات ہوئی ہے۔ یہ سنٹرل ایشو بنتا جارہا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد کشمیر ایک تاریخی موڑ پر آکھڑا ہوا ہے۔ اس میں سب کا کردار ضروری ہے۔ کشمیر کے حوالے سے ہمارے تارکین وطن بہت فعال ہیں۔ دنیا کی پارلیمان میں ان کی وجہ سے کشمیر کی گونج کا سنائی دینا بہت اہم ہے۔ ان کے ایوانوں میں اٹھائی گئی آواز بہت سنی جاتی ہے۔ تارکین وطن سے رابطوں کے لئے مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے پانچ اگست کے بعد جس انداز سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال عالمی سطح پر اٹھائی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، اس میں شک کی گنجائش نہیں، ہندوستان کی جعلی فلیگ حملے کی بھرپور مثالیں ہیں ان سے کچھ بعید نہیں یہ دنیا کو ہم باور کراتے ہیں کہ بھارت پھر ایسی حماقت نہ کرے۔ ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ 124 سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک قائم ہو چکا ہے۔ بھارت کے دفتر خارجہ نے سات بار اس ڈیسک اور سیل کو بند کرنے کی بات کی۔ انڈین سول سوسائٹی کی لاپتہ بچوں کے حوالے سے آٹھ رپورٹس شائع ہوگئی ہیں وہ ہم نے اپنے مشن کو بھجوائی ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ زیر غور آیا۔ اس حوالے سے چین کی کشمیر کے مسئلہ پر بھرپور سپورٹ حاصل ہے۔ چین کا کشمیر کی آواز اٹھانے میں سلامتی کونسل میں بھرپور کردا رہا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے تنازعہ کا حل ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر فیصل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر سے ہماری باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں ابہام ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 11 قراردادیں ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہیں۔ میڈیا اس ابہام کو دور کرے کہ کشمیر کی قیادت کو حکومت پاکستان اہمیت نہیں دے رہی۔ آزاد کشمیر کو ضم کرنے کے سوالات کی بغیر کسی لیت و لعل کے تردید کرتے ہیں۔ ایسی کوئی تجویز کہیں زیر غور نہیں ہے۔ یہ وسوسے ڈالنا دشمن کا ہتھکنڈا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کشمیر میں عصمت دری کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جانے کے مکروہ عزائم کو عالمی سطح پر پاکستان بے نقاب کر رہا ہے۔