بیرون ملک سے سرمایہ کی واپسی کیلئے کاروبار دوست پالیسیاں ضروری ہیں، صدر آئی سی سی آئی

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ بیرون ملک منتقل سرمایہ کو واپس لانے اور نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے کاروبار دوست پالیسیوں، ٹیکس ریشنلائزیشن اور ریگولیٹری اصلاحات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے

اسلام آباد۔20اپریل (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ بیرون ملک منتقل سرمایہ کو واپس لانے اور نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے کاروبار دوست پالیسیوں، ٹیکس ریشنلائزیشن اور ریگولیٹری اصلاحات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔پیر کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی کی کوششیں جاری ہیں تاہم مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہو اور پاکستان سرمایہ کاری کیلئے ایک پرکشش منزل کے طور پر ابھرے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سرمایہ کار ایسے ممالک کو ترجیح دیتے ہیں جہاں استحکام، مناسب ٹیکس نظام اور کاروبار میں آسانی ہو، اس تناظر میں پاکستان میں جاری اصلاحات کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ ٹیکس نظام کو مزید سادہ اور متوازن بنانے، ضوابط کو آسان کرنے اور منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی میں بہتری سے سرمایہ کاروں کو سہولت ملے گی اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے ہاؤسنگ سمیت مختلف شعبوں میں موجود مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مربوط پالیسی اقدامات اور سہولیات کی فراہمی سے سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) جیسے ادارے سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے عملی اصلاحات سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جامع اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے تسلسل سے قومی معیشت مزید مستحکم ہوگی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔