بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں 2 روزہ کانفرنس کا انعقاد
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں 2 روزہ کانفرنس کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ انگریزی کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی کانفرنس نے علمی حلقوں کو ایک ایسے مکالمے میں یکجا کر دیا ہے جہاں ما بعد نوآبادیاتی فکر، ٹیکنالوجی اور مقامی علمی بیانیے کے درمیان تعلق کو نئے زاویوں سے پرکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے فیصل مسجد کیمپس میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس بعنوان "کالیبن بولتا ہے:عہدِ ما بعد نوآبادیت اور ٹیکنالوجی میں مقامی فکر کی بازیافت” میں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے اشتراک سے دنیا کے چار براعظموںآسٹریلیا، جنوبی افریقہ، عمان اور پاکستان سے ماہرینِ تعلیم، محققین اور دانشور شریک ہیں۔
کانفرنس میں چار کلیدی خطابات، آٹھ متوازی علمی نشستیں اور دو اہم پینل مباحثے شامل ہیں جن میں نوآبادیاتی بیانیوں کے اثرات، مصنوعی ذہانت کی ساخت میں موجود طاقت کے عدم توازن اور مقامی زبانوں و ثقافتوں کے تحفظ جیسے موضوعات زیرِ بحث ہیں۔ مہمانِ خصوصی چیئرپرسن پاکستان اکادمی ادبیات ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اظہار کی نفی دراصل وجود کی نفی ہے۔ انہوں نے کالیبن کے استعارے کو استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب محکوم بولنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ صرف ابلاغ نہیں بلکہ اپنے وجود کا اعلان کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں الگورتھمز ایک نئی طرح کی نوآبادیاتی قوت بن چکے ہیں جو عالمی بیانیے کو کنٹرول کرتے ہیں۔یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے پیغام میں جامعہ کو ثقافتی و علمی تنوع کا مرکز قرار دیا گیا جہاں مختلف آوازوں کو جگہ دی جاتی ہے جبکہ فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر کی ڈین ڈاکٹر فوزیہ جنجوعہ نے اس بات پر زور دیا کہ علم کی محض ترسیل کافی نہیں بلکہ اسے جدید تقاضوں کے مطابق تشکیل دینا ضروری ہے۔ کانفرنس کی کنوینئر ڈاکٹر اسما منصور نے اپنے افتتاحی خطاب میں ایک فکر انگیز نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ما بعد نوآبادیاتی فکر پاکستان میں ایک "فکری قید خانے” میں محصور ہو چکی ہے جہاں یہ نظریہ عملی زندگی سے کٹا ہوا صرف علمی مباحث تک محدود ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی غیرجانبدار نہیں بلکہ عالمی طاقت کے ڈھانچوں سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے۔ شریک کنوینئر ڈاکٹر صائمہ اسلم نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "صرف بولنا کافی نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو سنا بھی جا رہا ہے؟ ان کے مطابق جامعہ وہ مقام ہونا چاہئے جہاں نئی آوازیں نہ صرف پیدا ہوں بلکہ انہیں ذمہ داری کے ساتھ استعمال بھی کیا جائے۔
کلیدی مقررین میں عمان کے بیان کالج سے ڈاکٹر سیان ڈے اور قائداعظم یونیورسٹی کی ڈاکٹر عروسہ کنول شامل ہیں جنہوں نے بالترتیب ما بعد نوآبادیاتی تناظر اور اسلامی تخیل کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے دوران جاری متوازی نشستوں میں مصنوعی ذہانت اور الگورتھمز کی نوآبادیاتی نوعیت، ڈیٹا کی خودمختاری، موسمیاتی بیانیے، اردو جمالیات اور مقامی زبانوں کے تحفظ جیسے موضوعات پر تحقیقی مقالات پیش کئے جا رہے ہیں۔
یہ کانفرنس نہ صرف علمی مکالمے کو فروغ دے رہی ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کر رہی ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں علمی خودمختاری اور مقامی بیانیے کی بازیافت کس قدر اہم ہو چکی ہے۔ توقع ہے کہ یہ علمی سرگرمی نئے تحقیقی رجحانات اور فکری سمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ کانفرنس آج اپنے اختتام کو پہنچے گی۔







