اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) وزارت خزانہ کے ترجمان نے ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے حال ہی میں میڈیا کو جاری کردہ رپورٹ کو ملک کی مجموعی مالیاتی ضروریات کی معیاری تعریف کی غلط تشریح پر مبنی قرار دیا ہے۔ بدھ کو وزارت خزانہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس رپورٹ میں بیرونی کھاتوں اور میکرو اکنامک …
بین الاقوامی مالیاتی ادارے رپورٹ ملک کی مجموعی مالیاتی ضروریات کی معیاری تعریف کی غلط تشریح پر مبنی ہے، ترجمان وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) وزارت خزانہ کے ترجمان نے ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے حال ہی میں میڈیا کو جاری کردہ رپورٹ کو ملک کی مجموعی مالیاتی ضروریات کی معیاری تعریف کی غلط تشریح پر مبنی قرار دیا ہے۔ بدھ کو وزارت خزانہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس رپورٹ میں بیرونی کھاتوں اور میکرو اکنامک استحکام کو خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مالی سال 2018ءکے دوران پاکستان کے لئے جی ڈی پی کے 9 فیصد (31 ارب ڈالر) مجموعی بیرونی قرضوں کی ضرورت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مجموعی مالیاتی ضروریات کے تخمینہ میں سرمایہ کاری جو جی ڈی پی کے 4 فیصد (13.8 ارب ڈالر) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں رواں مالی سال کے دوران بیرونی شعبے میں مزید انحطاط کا اندازہ پیش کیا گیا ہے۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ ملک کی مجموعی مالیاتی ضروریات کی معیاری تعریف کی غلط تشریح پر مبنی ہے۔







