بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی سفیر مصباح کھر کا عالمی پارلیمانی رہنماؤں کا خیرمقدم

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی سفیر مصباح کھر نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دنیا بھر کے قانون سازوں کے اس معزز اجتماع کی میزبانی میرے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔ اسلام آباد میں سینیٹ آف پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ افتتاحی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شریک ممتاز پارلیمانی وفود کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع اس …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی سفیر مصباح کھر نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دنیا بھر کے قانون سازوں کے اس معزز اجتماع کی میزبانی میرے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔ اسلام آباد میں سینیٹ آف پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ افتتاحی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شریک ممتاز پارلیمانی وفود کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ تنازع نہیں بلکہ تعمیری مکالمہ ہی امن کی راہ متعین کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف براعظموں سے آئے اسپیکرز اور وفود کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ دنیا مشترکہ طور پر مکالمے، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے عزم پر متحد ہے۔

مصباح کھر نے بتایا کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا تصور رواں سال چیئرمین سینیٹ معزز سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں اُس وقت پیش کیا گیا جب دنیا بھر کے 45 سے زائد پارلیمانوں کے اسپیکرز نے مل کر اس کے قیام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ یقین تھا کہ پارلیمان، جو عوام کی اصل آواز ہیں، ایک محفوظ اور خوشحال دنیا کی تشکیل میں رہنمائی کا کردار ادا کریں۔انہوں نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت اور سفارتی بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بطور سابق وزیرِ اعظم اور سپیکر، اُن کا تجربہ انہیں اس حقیقت کا گہرا ادراک دیتا ہے کہ جمہوریت اور سفارت کاری ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں۔ ان کے وژن کی بدولت آئی ایس سی ایک خیال سے حقیقت میں ڈھل چکا ہے، اقوام اور عوام کو مکالمے اور اعتماد کے ذریعے جوڑنے والا پل کا کردار ادا کر رہا ہے ۔

مصباح کھر نے کانفرنس کے موضوع ’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں الگ الگ نہیں بلکہ باہمی انحصار رکھنے والے ستون ہیں جو عالمی استحکام کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس سی کے رہنما اصول ، باہمی انحصار، مشترکہ خوشحالی، اور مشترکہ اقدارقابلِ عمل عہد ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمان ایک منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند، باہمی مکالمے پر یقین رکھنے والا اور آگے بڑھنے والا ملک ہے جو شمولیت، تعاون اور تہذیبوں کے درمیان پل تعمیر کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔مصباح کھر نے کہا کہ ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ ایک ایسا عملی لائحۂ عمل فراہم کرے گا جو انصاف، شفاف حکمرانی اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے پارلیمانی تعاون کو تقویت دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’عالمی چیلنجز خواہ وہ تنازعات ہوں، معاشی عدم استحکام، ماحولیاتی تبدیلی یا عدم مساوات یقینا بڑے ہیں، لیکن یہ شراکت داری اور اجتماعی استقامت کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا اپنا تجربہ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں، قدرتی آفات کے مقابلے میں حوصلہ، اور جامع ترقی کے حصول کی جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتی اور ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں۔

مصباح کھر نے کہا کہ یہ کانفرنس صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک مشترکہ سفر کا آغاز ہے ، ایک زیادہ منصفانہ، محفوظ اور پائیدار دنیا کی جانب گامزن ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ مشاورت ’عالمی پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی‘ اور شرکاء سے اپیل کی کہ وہ آئی ایس سی کو ’’براعظموں کے درمیان ایک ایسا دیرپا پل بنائیں جو مکالمے، انصاف اور باہمی ترقی پر استوار ہو۔ مصباح کھر نے کہاکہ آئیں ہم سب مل کر یہ عزم کریں کہ یہاں سے شروع ہونے والا کام ایک ایسی دنیا کی سمت روشنی بنے، جو خوف یا تقسیم سے نہیں بلکہ امید، یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری سے متعین ہو۔