تجارتی راستوں میں تبدیلی اور علاقائی طلب میں اضافے کے باعث بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا سکتا ہے، سیف الرحمٰن

تجارتی راستوں میں تبدیلی اور علاقائی طلب میں اضافے کے باعث بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا سکتا ہے، سیف الرحمٰن

لاہور۔31مئی (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمٰن نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطی میں جاری تنازعہ پاکستان کی بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے شعبے کےلئے اہم معاشی موقع بن کر سامنے آیا ہے،تجارتی راستوں میں تبدیلی اور علاقائی طلب میں اضافے کے باعث بندرگاہی سرگرمیوں میں متوقع اضافہ ملکی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اتوار کو لاہور میں مراساکی جاپانی لینگویج سینٹر کے سی ای او عثمان اختر کی قیادت میں طلبہ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث علاقائی تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بندرگاہی نظام میں اصلاحات، بیوروکریٹک رکاوٹوں کے خاتمے، شفافیت کے فروغ اور کسٹمز کے طریقہ کار کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

سیف الرحمٰن نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی جدید کاری،ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال اور ضابطہ جاتی نظام کو آسان بنانے سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جا سکتا ہےجس سے روزگار،آمدنی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔