تجارتی کشیدگی میں تیزی سے اضافہ اورپالیسیوں سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے پائیدار عالمی معاشی ترقی کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہاہے کہ تجارتی کشیدگی میں تیزی سے اضافہ اورپالیسیوں سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے پائیدار عالمی معاشی ترقی کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تجارت اور سرمائے کے بہاو کی سمت بدل رہی ہے …

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہاہے کہ تجارتی کشیدگی میں تیزی سے اضافہ اورپالیسیوں سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے پائیدار عالمی معاشی ترقی کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تجارت اور سرمائے کے بہاو کی سمت بدل رہی ہے جبکہ بڑی معیشتیں نمایاں پالیسی تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہیں۔

مرکزی بینکس سخت مالی حالات اور بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی اتار چڑھاوسے نبرد آزما ہیں، اور مسلسل بحرانوں نے ممالک کے پالیسی ذخائر کو کمزور کر دیا ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ پائیدار ترقی کی بحالی کے لیے حکومتوں کو فوری طور پر تین کلیدی شعبوں میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے پہلی ترجیح عالمی تجارتی کشیدگی میں کمی اور بنیادی عدم توازن دور کرنا ہے، دوسری ترجیح مالی و معاشی استحکام کا تحفظ ہے، جس کے لیے ممالک کو اپنے اندرونی مالی انتظامات بہتر بنانے ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق اصلاحات کے اثرات سے متاثرہ طبقات کی مدد کے لیے ہدفی، وقتی اور محدود نوعیت کے حکومتی امدادی اقدامات ضروری ہوں گے ،تیسری ترجیح طویل المدت ترقی کے لیے پیداواری صلاحیت بڑھانے والی اصلاحات ہے جس کے لیے محنت، پیداوار، اور مالیاتی منڈیوں میں ساختی اصلاحات، جدید انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری، جدت طرازی کا فروغ، کاروبار دوست ضوابط، اور مقابلے کو مضبوط بنانے والی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابقٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت میں پیش رفت کو صحیح سمت میں استعمال کرنے سے معیشتوں کی پیداواری صلاحیت اور ممکنہ ترقی کی رفتار بڑھا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کے ساتھ مشاورت، بحران کے دوران بروقت قرضہ فراہم کرنے، مضبوط پالیسی فریم ورک کو فروغ دینے، اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔