تحریک انصاف طالبان آئیڈیالوجی پر کام کر رہی ہے، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہے، احتجاج اور دھرنوں سے قیدی کی رہائی نہیں ہوگی، عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی ذمہ دار تحریک انصاف ہے جو طالبان آئیڈیالوجی پر کام کر رہی ہے اور دہشت گردوں کی سہولت کار ہے، تحریک انصاف نے دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا کی رہائشی آبادیوں میں لا کر آباد کیا، احتجاج اور دھرنوں سے قیدی کی رہائی نہیں ہوگی، گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران صوبے …

اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی ذمہ دار تحریک انصاف ہے جو طالبان آئیڈیالوجی پر کام کر رہی ہے اور دہشت گردوں کی سہولت کار ہے، تحریک انصاف نے دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا کی رہائشی آبادیوں میں لا کر آباد کیا، احتجاج اور دھرنوں سے قیدی کی رہائی نہیں ہوگی، گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران صوبے میں گورننس اور ترقی کی بجائے سیاسی انتشار کو فروغ دیا گیا۔

ہفتہ کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا اختیار ولی خان اور رکن صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا جلال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک زمانے میں ہمارے لیے باعثِ فخر صوبہ تھا جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے اور یہاں کے سیاحتی مقامات سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ صوبہ امن کا گہوارہ تھا اور ہر لحاظ سے مثالی سہولیات کا حامل تھا۔ گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے کے عوام کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گورننس کے لیے کتنے گھنٹے اور کتنے دن صرف کیے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ٹی پارک کا افتتاح کیا جہاں انکیوبیشن سینٹرز قائم کیے گئے، نجی شعبے کو آئی ٹی سہولیات فراہم کی گئیں اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے جدید مہارتیں سیکھنے کا باقاعدہ نظام وضع کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف نے گورننس پر توجہ دینے کے بجائے احتجاج کی سیاست کی ہوتی، اجلاس منعقد نہ کیے ہوتے اور منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی نہ کی ہوتی تو آئی ٹی پارک مکمل نہ ہو پاتا۔ اس منصوبے سے ملکی جی ڈی پی میں اضافے، آئی ٹی مہارتوں کے فروغ، آئی ٹی سیکٹر کی ترقی اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول ریلیف اسکیم متعارف کرائی جس سے ایک کروڑ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تجاویز کی روشنی میں پانچ لیٹر کی شرط ختم کی گئی جبکہ 15 سال پرانی موٹر سائیکل کی بجائے 20 سال پرانی موٹر سائیکل تک کو اس سکیم میں شامل کیا گیا۔ یہ سکیم کامیابی سے جاری رہی اور اس کی بہتری میں عوامی تجاویز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف بھی عوامی خدمت کے بجائے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تو ترقیاتی منصوبے مکمل نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین جب وزیراعظم تھے تو دوپہر 12 بجے ہیلی کاپٹر کے ذریعے دفتر آتے اور شام پانچ بجے گھر چلے جاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انہیں ایکسچینج ریٹ کا علم نہیں اور اس بارے میں ان کی اہلیہ انہیں بتاتی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ ہم یہاں عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں یا انتشار پھیلانے کے لیے؟ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کارکردگی دیکھی جائے تو گورننس کے حوالے سے ان کی کارکردگی زیرو ہے۔ اگر صوبائی حکومت نے گورننس پر توجہ دی ہوتی تو لکی مروت سے مردان اور نوشہرہ سے صوابی تک جدید آئی ٹی پارکس اور آئی ٹی مراکز قائم کیے جاتے، جامعات اور اسکولوں کو ترقی دی جاتی اور صحت کی سہولیات کو اپ گریڈ کیا جاتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت کی صحت کے شعبے پر توجہ صفر ہے کیونکہ اس کی ترجیحات سازشوں اور ایک قیدی کی رہائی کے گرد گھومتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام غربت، صحت کی ناکافی سہولیات اور معیاری تعلیم کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ سڑکوں، پلوں، انڈر پاسز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی عدم ترقی نے بھی عوام کو محرومیوں میں جکڑ رکھا ہے جبکہ دہشت گردی صوبے کے عوام کے لیے ایک بڑی آزمائش ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میرا شروع سے موقف رہا ہے کہ تحریک انصاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بی ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین دہشت گردوں کو اچھے لوگ قرار دیتے رہے ہیں۔ فوج نے وسیع علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا، امن بحال کیا اور آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد جیسے اقدامات کیے گئے لیکن بعد ازاں تحریک انصاف کی حکومت نے ان دہشت گردوں کو دوبارہ آباد علاقوں میں بسایا اور انہیں اچھے لوگ قرار دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا کہ فوج علاقے کلیئر کرائے، امن بحال کرے، خوشحالی واپس آئے اور پھر دہشت گردوں کو دوبارہ لا کر آباد کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں کہ تحریک انصاف دہشت گردوں کی سب سے بڑی سہولت کار اور ان کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی رکھتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کی نظریاتی سوچ طالبان کی آئیڈیالوجی سے مطابقت رکھتی ہے جس کے تحت خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسی آئیڈیالوجی پورے خیبر پختونخوا پر مسلط کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو دہشت گردوں کی آئیڈیالوجی اور ان کے طور طریقے پسند ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ کوہاٹ میں شہید پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کے گھر گئے تو انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ شہید کے والد کو کیا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ نااہل ہے جس میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی تو دور کی بات، ان کے خلاف بات کرنے کی بھی جرات نہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی توجہ گورننس پر نہیں ہے۔ ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ٹی پارک کا افتتاح کیا جبکہ وفاقی حکومت کی فیول ریلیف اسکیم سے ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد افراد کو ریلیف ملا ہے۔ وفاقی حکومت گورننس اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی وزرائے اعلیٰ ترقیاتی منصوبوں پر محنت کر رہے ہیں جس کے نتائج نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کے عوام کو بتائیں کہ انہوں نے گورننس پر کتنے گھنٹے صرف کیے؟ وزیراعلیٰ عوام کو کوئی ایک بڑا ہسپتال، بڑی یونیورسٹی، بڑی شاہراہ یا نوجوانوں کے لیے آئی ٹی مہارتوں کا کوئی بڑا منصوبہ گنوا دیں۔ اسی طرح اگر بچوں کو لیپ ٹاپ یا جدید ڈیجیٹل آلات فراہم کیے گئے ہیں تو ان منصوبوں کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو مشکلات اور محرومیوں میں مبتلا کرکے کسی قیدی کی رہائی ممکن نہیں، آخر یہ نظام کب تک چل سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر وقت انتشار، تشدد اور گالم گلوچ کی سیاست نہیں چل سکتی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ این ایف سی کے تحت انسدادِ دہشت گردی کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو 700 ارب روپے فراہم کیے گئے لیکن یہ رقم کہاں خرچ ہوئی؟ صوبے میں سی ٹی ڈی نہیں بنائی گئی، فرانزک لیبارٹری قائم نہیں ہوئی، نہ پولیس کو اپ گریڈ کیا گیا اور نہ ہی سیف سٹی کیمرے نصب کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وسائل عوام کا حق تھے جنہیں انسدادِ دہشت گردی کے منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے یہ رقم عوامی فلاح اور گورننس کے بجائے احتجاجی سرگرمیوں پر صرف کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گورننس کے لیے روزانہ آدھا گھنٹہ بھی نہیں دیتی جبکہ انتشار اور تخریب کاری سے متعلق امور پر چھ چھ گھنٹے اجلاس کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبر پختونخوا کے عوام اس طرزِ حکمرانی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردوں کی یہ جرأت کیسے ہوتی ہے کہ وہ کوہاٹ، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں آکر حملے کریں؟ ان دہشت گردوں کو دوبارہ آباد علاقوں میں لا کر بسانے کی ذمہ دار صرف اور صرف تحریک انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بچہ شہید ہوا، امن میلہ چیک پوسٹ پر بچی کی شہادت ہوئی اور ریسکیو ورکرز نے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان شہداء کا خون وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے ہاتھوں پر نہیں ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک طرف دہشت گردی کے واقعات میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں تو دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف کے نزدیک قومی مفاد کے مقابلے میں سیاسی مفاد زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ امن، خوشحالی اور ترقی کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہر ایک یہ سوال کر رہا ہے کہ آخر کب تک خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے جنہوں نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی نے پورے صوبے کو ایسے حالات میں جکڑ رکھا ہے جہاں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات اس سے پہلے کبھی اتنے خراب نہیں رہے۔ دہشت گرد گلیوں میں دندناتے پھر رہے ہیں، متعدد اضلاع میں انہوں نے خود ساختہ نو گو ایریاز قائم کر رکھے ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ مل کر بھتہ خوری کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مریضوں کا زیادہ تر بوجھ دیگر صوبوں اور اسلام آباد کے ہسپتالوں پر پڑتا ہے جہاں ان کا خوش دلی سے علاج کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ دن کب آئے گا جب ملک بھر سے لوگ علاج کے لیے خیبر پختونخوا کا رخ کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران صوبے کو جس تباہی سے دوچار کیا گیا ہے، اس سے آگے صرف بربادی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ صوبہ مکمل طور پر تباہ ہو تاکہ سیاسی انتقام کی خواہش پوری ہو جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کی بڑی وجوہات میں تحریک انصاف کی پالیسیوں اور نظریاتی سوچ کا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ لا کر آباد کیا اور شہداء کے خون سے غداری کی کیونکہ ان کی نظریاتی ہم آہنگی کالعدم تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بلوچستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی صوبے کی ترقی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مؤثر بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی پوری حکومت دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ وہاں وزیراعلیٰ، وزراء، فوجی قیادت اور پولیس دہشت گردی کے خلاف ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں افسران کی تعیناتیوں میں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا اور ایسے افسران تعینات کیے گئے جو مبینہ طور پر بھتہ خوری میں معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس ضمن میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ دہشت گردوں کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی ہے جس کی قیمت صوبے کے عوام ادا کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایسی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں جس کے نتیجے میں اپنے ہی لوگ جلیں، مارے جائیں اور انہیں تعلیم و صحت کی سہولیات بھی میسر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کوہاٹ ٹنل اور موٹروے جیسے منصوبے مسلم لیگ (ن) نے بنائے جبکہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران ترقیاتی کاموں کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کوہاٹ کے لیے صوبائی حکومت نے کون سی بڑی سڑک یا نمایاں ترقیاتی اسکیم مکمل کی ہے؟ انہوں نے اپنی زندگی میں صوبے میں اس قدر بدحالی اور تباہی نہیں دیکھی۔ ایک سوال کے جواب میں عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف روزانہ توہینِ عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ سڑکیں بند کرنا، شہریوں کی زندگی اجیرن بنانا، انتشار پھیلانا، جلاؤ گھیراؤ کی کال دینا اور توڑ پھوڑ کرنا اس جماعت کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے میٹرو اسٹیشنوں کو آگ لگائی اور وہاں درخت جلائے۔ اس جماعت کا ایجنڈا تباہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ کیا خیبر پختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ احتجاج کے نام پر آکر توڑ پھوڑ کی جائے؟ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے بھی احتجاج کیے لیکن کبھی پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی عمارت کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی ریڈیو پاکستان کو آگ لگائی یا کرنل شیر خان کے مجسمے کو مسمار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے کبھی پُرامن احتجاج نہیں کیا۔ ایک ٹی وی اینکر کی ویڈیو سب کو یاد ہے جس میں وہ ڈی ایس این جی کی چھت پر کھڑی ہو کر رو رہی تھیں اور مظاہرین سے پناہ کی درخواست کر رہی تھیں لیکن ان کے دل میں رحم نہیں آیا۔ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایک سینئر سیاست دان ہیں۔ انہیں امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا کردار مثبت ہوگا۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو آخر کب تک ظلم اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے نظام کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے؟