اسلام آباد ۔ 12 جولائی (اے پی پی) پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستو ن ہے،کشمیر کے حوالے سے ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔پاکستان حق خودارادیت کیلئے جدوجہد میں کشمیری عوام کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔بھارت کی جانب سے بلیک مارکیٹ میں یورینیم کی فروخت باعث تشویش اور سنجیدہ معاملہ ہے۔افغان …
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ اور صحافیوں کے سوالوں کے جوابات
اسلام آباد ۔ 12 جولائی (اے پی پی) پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستو ن ہے،کشمیر کے حوالے سے ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔پاکستان حق خودارادیت کیلئے جدوجہد میں کشمیری عوام کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔بھارت کی جانب سے بلیک مارکیٹ میں یورینیم کی فروخت باعث تشویش اور سنجیدہ معاملہ ہے۔افغان تنازعہ کا فوجی حل ممکن نہیں،افغانستان میں مفاہمت کیلئے تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں تا ہم طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا تمام ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں کی حمایت کرتے اور مسئلہ کشمیر کو تمام علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتے رہیں گے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری عوام 1947 سے جرات کے ساتھ بھارتی مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 8 جولائی کو برہان وانی کی شہادت کو دو سال مکمل ہوگئے اور ان 2 سالوں میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم میں کوئی کمی نہیںآئی ہے۔









