اسلام آباد ۔ 2 فروری (اے پی پی) پاکستان نے اپنی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال کرنے اور طالبان یا حقانی نیٹ ورک کیساتھ تعاون سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں بعض عناصر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔امریکہ کیساتھ باہمی عزت و احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس …
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 فروری (اے پی پی) پاکستان نے اپنی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال کرنے اور طالبان یا حقانی نیٹ ورک کیساتھ تعاون سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں بعض عناصر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔امریکہ کیساتھ باہمی عزت و احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس (آج) ہفتہ کو کابل میں ہورہا ہے ،سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ پاکستانی وفد کی قیادت کرینگی۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی پڑوسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیگا ،پاکستان اہنے ہمسایہ ملکوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہے۔حقانی نیت ور ک یا افغان طالبان کیساتھ تعاون سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے پانچ مشترکہ ورکنگ گروپس کی تجویز دی ہے جو دونوں ملکوں کے مابین انسداد دہشت گردی،معلومات کی شیئرنگ،ملٹری،اقتصادی،تجارت،ٹرانزٹ،مہاجرین کی واپسی اور رابطوں کو یقینی بنانے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرینگے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں،صرف افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں امن و مصالحتی عمل کے ذریعے افغانستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ افغانستان نے تمام مسائل باہمی اعتماد کے زریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔








