اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان علاقائی تعاون کو فروغ دینے کیلئے سارک سربراہ اجلاس کے جلد انعقاد کا خواہاں ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر میںانٹر نیٹ اور موبائل سروس فوری بحال اور تمام قیدیوں کو رہا کرے،اور بین الاقوامی میڈیا و عالمی ہیومن رائٹس تنظیموں کو وہاں جانے کی اجازت دے۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے …
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان علاقائی تعاون کو فروغ دینے کیلئے سارک سربراہ اجلاس کے جلد انعقاد کا خواہاں ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر میںانٹر نیٹ اور موبائل سروس فوری بحال اور تمام قیدیوں کو رہا کرے،اور بین الاقوامی میڈیا و عالمی ہیومن رائٹس تنظیموں کو وہاں جانے کی اجازت دے۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ترکی میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس اپنے بھارتی ہم منصب کے خطاب کے بائیکاٹ کے حوالے سے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان مستقبل میں بھی بھارتی وزیر خارجہ کا بائیکاٹ کرے گا۔سارک سربراہ اجلاس سے متعلق ترجمان نے کہا کہ 19واں سارک سربراہ اجلاس اسلام آباد میں ہی منعقد ہوگا، تاہم صرف ایک ملک بھارت رکاوٹ پیدا کر رہا ہے، باقی تمام رکن ملک راضی ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ،امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کی بحالی کا خیر مقدم کرتا ہے۔ہمارا ہمیشہ یہ مقف رہا ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور یہ مسلہ افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں پر امن مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے۔ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ امن عمل جلد مکمل ہو گا جو انٹر افغان ڈائیلاگ اور افغانستان میں تشدد میں کمی کا باعث بنے گا۔ترجمان نے تاہم خبردار کیا کہ ہمیں ان شرپسند عناصر کے کردار سے ہوشیار رہنا ہوگا جو افغاستان میں تنازعہ کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ترجمان نے امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے سابق ایس پی ملیر کو بلیک لسٹ قرار دینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رائو انوار نے جو جرائم کئے ہیں اس کیلئے اس پر عدالتوں میںمقدمات چل رہے ہیں ،تاہم ترجمان نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ مقبوضہ کشمیر میں مصدقہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کسی کو ذمہ دار قرار دینے میں ناکام رہا ہے۔ترجمان نے افغانستان میں جاپانی فزیشن اور سرگرم امدادی کارکن ناکامورا کے قتل کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ ناکامورا نے ہزاروں افغان عوام کی زندگی تبدیل کر دی تھی۔ان کے کام کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہم المناک سانحہ پر جاپانی اور افغان عوام کے دکھ درد میں شریک ہیں۔اور یہ انہیشرپسند عناصر کی کارستانی ہوسکتی ہے جو جوافغانستان کو پر امن اور مستحکم دیکھنا نہیں چاہتے۔








