ترقی پذیر ممالک میں کورونا وائرس بارے جعلی ادویات کی فروخت کے سنگین مضر اثرات ہو سکتے ہیں، عالمی ادارہ صحت

لندن ۔ 10اپریل (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں کورونا وائرس بارے جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے سنگین مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔افریقا میں فروخت ہونے والی جعلی ادویات کے بارے میں بھی علم ہوا ہے جہاں جعل ساز مارکیٹ میں پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے …

لندن ۔ 10اپریل (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں کورونا وائرس بارے جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے سنگین مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔افریقا میں فروخت ہونے والی جعلی ادویات کے بارے میں بھی علم ہوا ہے جہاں جعل ساز مارکیٹ میں پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں لوگ بنیادی ادویات کا ذخیرہ کر رہے ہیں تاہم بڑی تعداد میں طبی سامان تیار کرنے والے دو ممالک چین اور بھارت میں لاک ڈاو¿ن اور ادویات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے جعلی ادویات کی گردش بڑھ رہی ہے،جس ہفتے عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو وبائی بیماری قرار دیا تھا اس کے بعد صرف سات روز میں انٹرپول کے عالمی فارماسیوٹیکل کرائم فائٹنگ یونٹ نے 90 ممالک میں 121 گرفتاریاں عمل میں لائیں جس دوران ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا خطرناک طبی سامان اور ادویات کو قبضے میں لیا گیا ۔ ملائیشیا سے لے کر افریقی ملک موزمبیق تک پولیس افسران نے ہزاروں جعلی ماسک اور ادویات ضبط کیں، ان میں سے بہت سوں نے کورونا وائرس کے علاج کا دعوی کیا تھا۔انٹرپول کے سیکرٹری جنرل جورجین سٹاک کا کہنا ہے کہ صحت عامہ کے بحران کے دوران ایسی جعلی طبی اشیاءکی غیر قانونی تجارت، لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق کم یا درمیانی آمدن والے ممالک میں جعلی ادویات کی اس تجارت، جس میں ایسی دوائیں شامل ہیں جن میں کوئی غلط یا غیر فعال اجزا شامل ہیں، کی مالیت 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔بھارت میں کئی دوا ساز کمپنیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اب اپنی معمول کی گنجائش کا صرف 50 سے 60 فیصد کام کر رہی ہیں، چونکہ بھارتی کمپنیاں افریقا کو تمام بنیادی ادویات کا 20 فیصد حصہ فراہم کرتی ہیں تو افریقی ممالک اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔افریقی ملک زیمبیا کے دارالحکومت لوساکا کے ایک دوا ساز افرایم فیری نے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی اس تناو¿ کو محسوس کر رہے تھے،ادویات پہلے ہی کم ہو رہی ہیں اور ہم یہ کمی پوری نہیں کر پا رہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے، ادویات کی فراہمی حاصل کرنا بہت مشکل ہے خاص طور پر ضروری ادویات جیسے کہ اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی میلریل۔ادھرادویات تیار کرنے اور ان کو فراہم کرنے والی کمپنیاں بہت جدوجہد کر رہی ہیں کیونکہ گولیوں(ٹیبلٹس) کی تیاری میں استمعال ہونے والا خام مال اب بہت مہنگا ہو گیا ہے اور کچھ کمپنیاں اس قیمت کو آسانی سے برداست نہیں کر سکتیں۔طلب اور رسد کے اس غیر مستحکم امتزاج کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کے خطرناک اضافے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کلوروکوین اور اس سے منسلک مرکب ہائیڈرو کلوروکوین کے مو¿ثر ہونے کا حوالہ دینا شروع کیا ہے تب سے عالمی سطح پر ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈبلیو ایچ او بار بار یہ کہہ چکا ہے کہ اس بات کے کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں کہ کلوروکوین یا ہائیڈرو کلوروکوین کو کورونا وائرس کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مانگ میں اضافے کی وجہ سے جمہوریہ کانگو اور کیمرون میں بڑی مقدار میں جعلی کلوروکوین گردش کر رہی ہے، عالمی ادارہ صحت کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ جعلی دوا افریقی ملک نائیجر میں فروخت ہو رہی ہے،یہ دوا مبینہ طور پر بیلجیئم میں براو¿ن اینڈ برک فارماسیوٹیکل لمیٹڈ نے تیار کی تھی تاہم برطانیہ میں رجسٹرڈ دوا ساز کمپنی براو¿ن اینڈ برک نے کہا ہے کہ اس کا دوا سے کوئی تعلق نہیں، یہ جعلی ہے۔یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں جعلی ادویات کے ماہر پروفیسر پال نیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ جب تک دنیا بھر کی حکومتیں مل کر مقابلہ نہیں کرتیں، جعلی اور خطرناک دوائیوں کی گردش بڑھتی رہے گی۔یاد رہے کہ دواسازی کی عالمی صنعت کی مالیت 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، ادویات کی سپلائی کا نظام بہت وسیع ہے جو چین اور بھارت کی فیکٹریوں سے یورپ، جنوبی امریکا اور یورپ کے کارخانوں سے ہوتا ہوا ڈسٹریبیوٹرز تک پھیلا ہوا ہے جہاں سے یہ ادویات دنیا کے ہر ملک میں پہنچتی ہیں۔