اسلام آباد۔ 24ستمبر(اے پی پی) کشمیر انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز(کے آئی آئی آر ) کے چئیرمین الطاف حسین وانی نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی کشمیریوں کے جائز مقصد کی حمایت کے اعادہ کرنے پر ان کی تعریف کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے کشمیریوں کے حقوق کے لئے اپنی آواز بلند کرکے بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ …
ترک صدر رجب طیب اردوان کی کشمیریوں کی حمایت کے اعادہ کو سراہتے ہیں،الطاف حسین وانی عالمی رہنما کشمیریوں کے حقوق کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالیں، چئیرمین کشمیر انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 24ستمبر(اے پی پی) کشمیر انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز(کے آئی آئی آر ) کے چئیرمین الطاف حسین وانی نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی کشمیریوں کے جائز مقصد کی حمایت کے اعادہ کرنے پر ان کی تعریف کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے کشمیریوں کے حقوق کے لئے اپنی آواز بلند کرکے بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کوکشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرے۔ جمعرات کو یہاں جاری ایک بیان میں کے آئی آئی آر کے سربراہ نے ترک صدر کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ظلم وجبر میں پسے کشمیری عوام ترک صدر کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ترکی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھانے کے علاوہ بھارت کے غیرقانونی قبضے اور بھارتی افواج کے ہاتھو ں کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔صدر اردگان کی تاریخی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے بیان سے کشمیری عوام جو بدترین قسم کی بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں میں امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے خطے میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ بااثر عالمی رہنماؤں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ کشمیری عوام کو مودی کی زیر قیادت فاشسٹ حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا جو کشمیر کی سماجی و سیاسی اور ثقافتی شناخت مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ وانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے نمٹنے کے لئے اہم اسٹیک ہولڈرز کے مابین نتیجہ خیز مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں تاہم مسئلے کے حل کے لئے صرف دو طرفہ مذاکراتی عمل پر انحصار کرنا کشمیر میں مزید خونریزی اور ہلاکتوں کی اجازت دینے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تنازعہ کا حل ڈھونڈنے کے لئے شاید غیر معینہ مدت کا انتظار کرسکتی ہے لیکن کشمیری جو آئے روز قتل ہورہے ہیں وہ ایک دن بھی انتظار نہیں کرسکتے اس لئے ضروری ہے کہ عالمی رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر آگے آنا چاہئے اور اس مہلک تنازعہ کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے لئے تمام دستیاب آپشنوں کا استعمال کرلینا چاہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے عالمی طاقتوں کا مستقل اور مربوط سفارتی اثرورسوخ ہونا ضروری ہے۔








