لاہور۔30دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سال 2025 کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کا سال رہا، 2 ملین کی گھوسٹ انرولمنٹ ختم کی۔ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کر کے اساتذہ کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایا۔ پہلی مرتبہ کریکلم ریفارمز پر تاریخی کام ہوا ،کوالٹی آف ٹیچنگ میں بہتری لے کر آئے،1 لاکھ اساتذہ کی ٹریننگ …
تعلیم کی بہتری کیلئے 2025 اقدامات کا سال رہا، 2 ملین گھوسٹ انرولمنٹ ختم کیں، 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن سے اساتذہ کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایاگیا، وزیر تعلیم

مزید خبریں
لاہور۔30دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سال 2025 کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کا سال رہا، 2 ملین کی گھوسٹ انرولمنٹ ختم کی۔ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کر کے اساتذہ کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایا۔ پہلی مرتبہ کریکلم ریفارمز پر تاریخی کام ہوا ،کوالٹی آف ٹیچنگ میں بہتری لے کر آئے،1 لاکھ اساتذہ کی ٹریننگ کروائی گئی۔ امتحانی اصلاحات ، تعلیمی بورڈز کو ای مارکنگ پر منتقل کیا گیا۔ ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن پر فوکس کیا گیا اور10 ہزار سکولوں میں ای سی ای رومز بنائے۔ نیوٹریشن پروگرام کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے روزانہ11 لاکھ طلبہ و طالبات کو مستفید کروایا جا رہا ہے جبکہ11 لاکھ نیوٹریشن بیگز پہلی مرتبہ روزانہ ری سائیکل ہو رہے ہیں جس سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب سکول بینچ بن رہے ہیں جو فرنیچر کی شارٹیج کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اساتذہ کیلئے سمال انسٹالمنٹ پر سکوٹیز سکیم لائے۔ سکولوں میں سہولیات کیلئے اقدامات کئے گئے اور اس ضمن میں ڈویلپمنٹ بجٹ کو بڑھا کر تاریخ میں پہلی مرتبہ 110 ارب کیا گیا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ 2025 میں268 سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ رواں سال اساتذہ کی ہراسمنٹ کے37 کیسز پر فیصلے ہوئے۔ پہلی مرتبہ ٹیچر تکریم ایوارڈز لانچ کئے۔10 اضلاع میں سنٹر آف ایکسیلینس اور300 سکول آف ایمی نینس بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ نجی تعلیمی اداروں کے طلباکو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کرتے ہوئے10 ہزار لیپ ٹاپ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ گوگل کے ساتھ ملکر طلبا، اساتذہ اور صحافیوں کو خصوصی ورکشاپس اور کورسز کروائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے850 میں سے550 کالجز میں مستقل پرنسپلز نہیں تھے، اس سال کے دورا ن450 کالجز میں میرٹ پر پرنسپلز تعینات ہو چکے ہیں، جبکہ 29 یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔
سکولوں میں ٹیکنالوجی کو فروغ دیتے ہوئے تمام ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں سٹیم کلبز بن چکے ہیں جبکہ50 فیصد ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سٹیم لیبز بننا شروع ہو گئی ہیں۔ میٹرک ان ٹیکنالوجی میں صرف گریڈ9 میں51 ہزار بچے ٹیکنالوجی پڑھ رہے ہیں۔ سکولوں میں گوگل کلاڈ آئی ڈیز آ گئی ہیں جبکہ کروم بکس بھی ملنے والی ہیں۔ ہزاروں طلبا سکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔50 فیصد کالجز اور سکولز سولرائز ہو رہے ہیں۔ ٹیچر سرٹیفیکیشن لانچ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول آئوٹ سورسنگ کے بعد250 فیصد انرولمنٹ بڑھی ہے۔ سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھانے کیلئے اپنے بیٹے کو سرکاری سکول میں داخل کروا کر ایک بے مثال روایت قائم کی۔
C








