تمام جائز ٹیکس ریفنڈز مقررہ طریقہ کار اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد جاری کر دیئے جائیں گے،چیئرمین ایف بی آر

فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر) کے چیئرمین راشدمحمودلنگڑیال نے کہاہے کہ تمام جائز ٹیکس ریفنڈز مقررہ طریقہ کار اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد جاری کر دیئے جائیں گے، ٹیکس پالیسیوں کے نفاذ کے دوران کاروباری برادری کو درپیش حقیقی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریزکے وفدسے ملاقات میں کیا۔

اسلام آباد۔10مارچ (اے پی پی):فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر) کے چیئرمین راشدمحمودلنگڑیال نے کہاہے کہ تمام جائز ٹیکس ریفنڈز مقررہ طریقہ کار اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد جاری کر دیئے جائیں گے، ٹیکس پالیسیوں کے نفاذ کے دوران کاروباری برادری کو درپیش حقیقی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریزکے وفدسے ملاقات میں کیا۔ملاقات میں کاروباری مسائل پر تبادلہ خیال کیاگیا،وفد کی قیادت چیمبرکے صدرمحمدعلی ہمایوں بٹ کر رہے تھے۔ اس موقع پر ایف بی آر کے سینئر افسران جن میں ممبر (آئی آر آپریشنز)، ممبر (آئی آر پالیسی)، ممبر (کسٹمز پالیسی) اور چیف (ایف اینڈ سی) شامل تھے۔

ملاقات کے دوران وفد نے چیئرمین ایف بی آر کو پالیسی اور آپریشنل دونوں سطح پر کاروباری برادری کو درپیش مختلف مسائل سے آگاہ کیا۔ وفد نے خاص طور پر ٹیکس ریفنڈز، سپر ٹیکس کی اقساط اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے دیگر آپریشنل چیلنجز سے متعلق امور کو اجاگر کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وفد کو بتایا کہ ٹیکس پالیسی کی تشکیل کا اختیار اب وزارت خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کا دائرہ اختیار بنیادی طور پر ٹیکس انتظامیہ کے نفاذ اور آپریشنل پہلوئوں تک محدود ہے۔

چیئرمین نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفظات کا مناسب غور کے ساتھ جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے ایف بی آر کے متعلقہ شعبوں کو پیش کیے گئے مسائل کا جائزہ لے کر کاروباری برادری کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے جلد از جلد مناسب ردعمل اوراقدامات کی ہدایت کی۔ چیئرمین ایف بی آر نے وفد کو یقین دلایا کہ تمام جائز ٹیکس ریفنڈز مقررہ طریقہ کار اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد جاری کر دیئے جائیں گے اور ٹیکس پالیسیوں کے نفاذ کے دوران کاروباری برادری کو درپیش حقیقی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے گا تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جو ٹیکس قانون کے مطابق واجب الادا ہیں وہ سختی سے قانون کے مطابق وصول کیے جائیں گے۔

چیئرمین ایف بی آر نے وفد کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر کے کسی بھی افسرکو ٹیکس دہندگان کے لیے بلاجواز مشکلات پیدا کرنے یا ٹیکس دہندگان سے کسی قسم کی رعایت طلب کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ انہوں نے کاروباری برادری کو ترغیب دی کہ وہ ایف بی آر کے نظام میں موجود کسی بھی بدعنوان عنصر کی نشاندہی مستند شواہد کے ساتھ کریں اور یقین دلایا کہ کرپشن میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔